کہ ؔ میں آپ کے افتراکی وجہ سے کسی انسانی عدالت میں آپ پر نالش نہیں کروں گا۔ سو میں کہتا ہوں کہ میں نہ صرف انسانی عدالت میں نالش کروں گا بلکہ میں خدا کی عدالت میں بھی نالش نہیں کرتا۔ لیکن چونکہ آپ نے محض جھوٹے اور قابل شرم الزام میرے پر لگائے ہیں اور مجھے ناکردہ گناہ دُکھ دیا ہے اِس لئے میں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ میں اس وقت سے پہلے مروں جب تک کہ میرا قادر خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بَری کرکے آپ کا کاذب ہونا ثابت نہ کرے۔ اَلَا اِنَّ لَعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْن اِسی کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر مجھ کو ۱۱؍دسمبر ۱۹۰۰ء روز پنجشنبہ کو یہ الہام ہوا۔ برمقام فلک شدہ یارب گر امیدے دہم مدار عجب۔ بعد۱۱ انشاء اللہ تعالیٰ۔ مگر بہر حال ایک نشان میری بریّت کے لئے اِس مدّت میں ظاہر ہوگا جو آپ کو سخت شرمندہ کرے گا۔ خدا کی کلام پر ہنسی نہ کرو۔ پہاڑ ٹل جاتے ہیں دریا خشک ہو سکتے ہیں موسم بدل جاتے ہیں مگر خدا کا کلام نہیں بدلتا جب تک پورا نہ ہو لے۔ اِسی طرح میری کتاب اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱۹ میں بابو الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے یریدون اَنْ یروا طمثک واللّٰہ یرید ان یریک انعامہ الانعامات المتواترۃ۔ انت منی بمنزلۃ اولادی واللّٰہ ولیک وربک فقلنایا نارکونی بردًا یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اورناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔ یعنی حیض ایک ناپاک چیز ہے مگر بچہ کا جسم اسی سے تیار ہوتا ہے۔ اسی طرح جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو جس قدر فطرتی ناپاکی اور گند ہوتا ہے جو انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہوتا ہے اُسی سے ایک روحانی جسم تیار ہوتاہے۔ یہی طمث انسانی ترقیات کا نتیجہ ہے۔ اِسی بناء پر صوفیاء کا قول ہے کہ اگر گناہ نہ ہوتا تو انسان کوئی ترقی نہ کرسکتا۔ آدم کی ترقیات کا بھی یہی موجب ہوا۔ اِسی وجہ سے ہر ایک نبی مخفی کمزوریوں پر نظر کرکے استغفار