صرؔ ف ایک نام سے ہی فیصلہ کر دیا یعنی کذّاب جس کے معنی یہ ہیں کہ میں نے گویا خدا تعالیٰ پر حد سے زیادہ جھوٹ بولا اور اپنے افتراکو خدا کی طرف منسوب کر دیا ہے۔جو لوگ عصائے موسیٰ کا صفحہ۴ اور صفحہ ۷ پڑھیں گے اُن کو معلوم ہوگا کہ یہ تہمت جو بابو صاحب نے میرے پر لگائی ہے اس کا فیصلہ مَیں نے خدا تعالیٰ سے چاہا ہے اور جھوٹے پر خدا کی *** کی ہے۔ پھر ماسوا اِس کے خود قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو اُس پر افتراکرے وہ سزا سے نہیں بچے گا۔ اور جو شخص خدا کے کلام کی تکذیب کرے وہ بھی سزا سے نہیں بچے گا۔ پس اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ ۶؍اپریل ۱۹۰۷ء* کو بابو الٰہی بخش صاحب کا طاعون سے مرنا درحقیقت یہ خدا تعالیٰ کا ایک فیصلہ تھا جو آخر اُس کی عدالت سے صادر ہو گیا۔ اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔ مگر بموجب حدیث من عادیٰ لی ولیًّا فقد اٰذنتہ للحرب بابو صاحب نے اِس لڑائی کا انجام دیکھ لیا ہے اب اُن کے رفیق کہتے ہیں کہ وہ شہید ہو گئے۔ مگر میری دعا ہے کہ تمام مفسد اور مخالف حق کے ایسے ہی شہید ہو جائیں۔
اٰمین ثم اٰمین
باب دوم
اُن الہامات کے بیان میں جو بابو الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ کے بارے میں خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کئے
بابو الٰہی بخش صاحب نے جب کتاب عصائے موسیٰ تالیف کی تو اس تالیف کا باعث یہی تھا کہ انہوں نے مجھے فرعون قرار دیا اور اپنے تئیں موسیٰ ٹھہرایا اور بار بار لکھا کہ مجھے خدا سے الہام ہوتے ہیں کہ یہ شخص کذّاب اور دجّال اور مفتری ہے۔ تب میں نے اُن کی کتاب پڑھ کر اپنے رسالہ اربعین نمبر ۴ کے حاشیہ پر مندرجہ ذیل عبارت لکھی جس میں ایک پیشگوئی اور دعا ہے اور وہ یہ ہے۔
افسوس کہ اُنہوں نے (یعنی بابو الٰہی بخش صاحب نے) آیت 3 ۱ کے ویل کے وعید سے کچھ بھی اندیشہ نہیں کیا اور نہ اُنہوں نے آیت 3
3 ۲ کی کچھ بھی پروا کی۔ وہ بار بار میری نسبت لکھتے ہیں کہ میں نے اُن کو تسلی دے دی
* سہوکتابت ہے۔ درست ۷؍اپریل ۱۹۰۷ء چھ بجے شام ہے جس کی تصدیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اسی کتاب
کے صفحہ ۵۴۴ سے ہوتی ہے۔ (ناشر) ۱ الھمزۃ :۲ ۲ بنی اسرائیل :۳۷