پڑے گی اور نہ صرف نامُرادی کی ذلّت اور نہ صرف یہ کہ مباہلہ کرکے فریق مخالف کے مقابل پر موت کی ذِلّت بلکہ طاعون کی ذلّت بھی دیکھے گا جس کی نسبت حدیث صحیح میں لکھا ہے کہ الطاعون وخذ الجنّ یعنی طاعون شیطان کی چوبکی ہے۔ پس طاعون سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بابو صاحب تنزّل شیاطین کے اثر کے نیچے تھے۔
پھر بابو الٰہی بخش صاحب نے اپنی کتاب کے صفحہ ۴ میں میری اور اپنی باہمی خط و کتابت کو چھاپ دیا ہے اُس کو پڑھ کرہر ایک انسان معلوم کر سکتا ہے کہ میں نے بابو صاحب سے اِس بات پر اصرار کیا تھا کہ جو میرے پر انہوں نے الہام کی بنا پر تہمتیں لگائی ہیں کہ یہ شخص کذّاب ہے اور مُسرف ہے یعنی جو کچھ دعویٰ الہام کرتا ہے یہ سب اس کا افتراہے اور حد سے بڑھ گیا ہے منشی صاحب میرے اس افتراکو جو اُنہیں اپنے الہام کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے شائع کر دیں تافیصلہ ہو جاوے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے 33 ۱ یعنی اُس سے ظالم تر کون ہے کہ خدا پر افتراکرے یا خدا کے کلام کی تکذیب کرے۔ اِس کے جواب میں بابو صاحب نے اپنی کتاب کے صفحہ ۴ میں ایسے الہامات کے شائع کرنے کا وعدہ دیا ہے۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ ۷ میں آخری جواب میرا چھپا ہے جس کی یہ عبارت ہے۔ میں صرف خدا تعالیٰ سے عقدہ کشائی چاہوں گا تا وہ لوگ جو مجھے مسرف کذّاب کا نام دیتے ہیں اور وہ لوگ جو میرامسیح ہونا تصدیق کرتے ہیں اُن میں اللہ تعالیٰ آپ فیصلہ کرے۔ پھرکتاب کے صفحہ ۹ میں بابو صاحب لکھتے ہیں کہ اب میں عام لوگوں کے فائدہ کے لئے وہ تمام الہامات مع تفہیمات و تشریحات شائع کر دوں گا۔ چنانچہ کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۱۹ سے اخیر تک وہ تمام الہامات اپنے بابو صاحب نے شائع کر دئیے ہیں اور بعض الہامات کو مخفی بھی رکھا ہے جو میری سزایابی کے متعلق تھے۔ بہر حال جس قدر کتاب میں شائع ہو گئے ہیں بعض میں اُنہوں نے میرا نام کذّاب رکھا ہے اور بعض میں مُفتری اور بعض میں دجّال اور بعض میں ملعون اور بعض میں خائن اور بعض میں ظالم اور بعض میں کافر اِسی طرح اُن کے الہاموں نے مجھے بہت سے نام عطا کئے ہیں مگر خدا نے