کرتی ہے کیونکہ دنیا شیطان کے سایہ کے نیچے چلتی ہے اِس لئے وہ راستباز سے پیار نہیں کر سکتی مگر خدا اُس کو ایک بچہ کی طرح اپنے کنارِ عاطفت میں لے لیتا ہے اور اُس کے لئے ایسی ایسی طاقتِ الوہیت کے کام دکھلاتا ہے جس سے ہر ایک دیکھنے والے کی آنکھ کو چہرہ خدا کا نظر آجاتا ہے۔ پس اُس کا وجود خدا نما ہوتا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔
اور ؔ یاد رہے کہ جیسا کہ تیسری قسم کے لوگوں کی خوابیں نہایت صاف ہوتی ہیں اور پیشگوئیاں اُن کی تمام دنیا سے بڑھ کر صحیح نکلتی ہیں اور نیز وہ عظیم الشان اُمور کے متعلق ہوتی ہیں اور اس قدر اُن کی کثرت ہوتی ہے کہ گویا ایک سمندر ہے۔ ایسا ہی ان کے معارف اور حقائق بھی کیفیت اور کمیّت میں تمام بنی نوع سے بڑھ کر ہوتے ہیں اور خدا کے کلام کے متعلق وہ معارفِ صحیحہ اُن کو سوجھتے ہیں جو دوسروں کو نہیں سوجھ سکتے کیونکہ وہ روح القدس سے مدد پاتے ہیں اور جس طرح اُن کو ایک زندہ دل دیا جاتا ہے اسی طرح اُن کو ایک زبان عطا کی جاتی ہے اور اُن کے معارف حال کے چشمہ میں سے نکلتے ہیں نہ محض قال کے گندہ کیچڑ سے اور انسانی فطرت کی تمام عمدہ شاخیں اُن میں پائی جاتی ہیں اور اِسی کے مقابل پر تمام قسم کی نصرت بھی اُن کو عطا ہوتی ہے۔ اُن کے سینے کھولے جاتے ہیں اور اُن کو خدا کی راہ میں ایک غیر معمولی شجاعت بخشی جاتی ہے وہ خدا کے لئے موت سے نہیں ڈرتے اور آگ میں جل جانے سے خوف نہیں کرتے۔ اُن کے دودھ سے ایک دنیا سیراب ہوتی ہے اور کمزور دل قوت پکڑتے ہیں۔ خدا کی رضا جوئی کے لئے اُن کے دل قربان ہوتے ہیں۔ وہ اُسی کے ہو جاتے ہیں اسی لئے خدا اُن کا ہو جاتا ہے اور جب وہ اپنے سارے دل سے خدا کی طرف جھکتے ہیں تو خدا اُسی طرح اُن کی طرف جھکتا ہے کہ ہر ایک کو پتہ لگ جاتا ہے کہ ہرمیدان میں خدا اُن کی پاسداری کرتا ہے۔ درحقیقت خدا کے لوگوں کو کوئی شناخت نہیں کر سکتا مگر وہی قادر خدا جس کی دلوں پر نظر ہے پس جس دل کو وہ دیکھتا ہے کہ سچ مچ اُس کی طرف آگیا۔ اُس کے لئے عجیب عجیب کام دکھلاتا ہے اور اُس کی مدد کے لئے ہر ایک راہ میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ اُس کے لئے وہ قدرتیں دکھلاتا ہے جو دنیا پر مخفی ہیں اور اس کے لئے ایسا غیرت مند ہو جاتا ہے کہ کوئی