کرؔ سکتے ہیں جب تک کہ اس کے ساتھ خدا کی فعلی شہادت زبردست نہ ہو۔ ایک خدا کا قول ہے اور ایک خدا کا فعل ہے اور جب تک خدا کے قول پر خدا کا فعل شہادت نہ دے ایسا الہام شیطانی کہلائے گا اور شہادت سے مُراد ایسے آسمانی نشان ہیں کہ جو انسانوں کی معمولی حالتوں سے بہت بڑھ کر ہیں۔ ورنہ یہ امر نشان میں داخل نہیں ہو سکتا کہ کسی کو اتفاقی طور پر کوئی سچی خواب آجاوے یا شاذ و نادر کے طور پر کبھی کوئی سچا الہام ہو جاوے کیونکہ یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمام مخلوقات کو بطور بیج کے دیا گیا ہے۔ بلکہ نشان سے مُراد وہ کثیر التعداد نشان ہیں جو بارش کی طرح برس کر اور بے مثل کے درجہ تک پہنچ کر خدا کے قول پرقطعی اور یقینی گواہی دے دیں کہ وہ خدا کا قول ہے نہ انسان کا کیونکہ چند معمولی خوابوں یا چند معمولی الہاموں پر بھروسہ کرکے جو تمام دنیا کو ہوا کرتے ہیں یہ دعویٰ پیش کر دینا کہ میں خدا کی طرف سے مُلہم ہوں اِس سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں۔ اور خدا تعالیٰ پر یہ الزام نہیں آسکتا کہ الہام دے کر کیوں اُس نے نامرادی سے ہلاک کیا بلکہ یہ الزام خود اسی نادان پر آتا ہے جس نے حدیث النفس کو الہام سمجھ لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ جب آپ پر فرشتہ جبرائیل ظاہر ہوا تو آپ نے فی الفور یقین نہ کیا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے بلکہ حضرت خدیجہ کے پاس ڈرتے ڈرتے آئے اور فرمایا کہ خشیت علٰی نفسی یعنی مجھے اپنے نفس کی نسبت بڑا اندیشہ ہوا ہے کہ کوئی شیطانی مکرنہ ہو۔ لیکن جو لوگ بغیر تزکیۂ نفس کے جلدی سے ولی بننے کی خواہش کرتے ہیں وہ جلدی سے شیطان کے فریب میں آجاتے ہیں۔ پس سوچنا چاہئے کہ اگر بابو صاحب کے الہامات شیطانی الہام نہیں تو خدا کے زبردست افعال نے ان کی کیوں گواہی نہ دی۔ افسوس وہ خود تو مر گئے مگر سخت ذلّت اور رُسوائی کا ٹیکا اپنے رفیقوں کے مُنہ پر لگا گئے اور اسی طرح بابو صاحب سے پہلے ہزاروں انسان ایسے الہاموں سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ افسوس دُنیا کے لوگ سونے کو توپرکھ لیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کھوٹا نکلے مگر اپنے الہاموں کو نہیں پرکھتے کہ آیا خدا کی طرف سے ہیںیا شیطان کی طرف سے۔ پھر خدا تعالیٰ کا کیا قصور ہے۔ جو شخص بغیر شہادت فعل الٰہی کے صرف قول پر نازاں ہو گا یہی ذلّت اُس کو ضرور ایک دن دیکھنی