الہاؔ م ہیں جن کے پورے ہونے تک بابو صاحب کا زندہ رہنا ضروری تھا۔ پھر بابو صاحب اپنی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۱۲۴ میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں۔ غور کریں کہ جس پر وہ رحیم و کریم ایسا فضل و کرم کرے اُس کو اگر امام کی مخالفت مُضر ہے تو ایسے الہام کیوں ہوں۔ ہاں اگر اُس قادر مطلق احکم الحاکمین غیاث المستغیثین و ہادی المضلّینکا اس بے چارہ وبے گناہ عاجز مُلہم کو بذریعہ الہام ہی تباہ و ہلاک کرنے کا ارادہ ہے تو اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اقول: واضح ہو کہ بابو الٰہی بخش اپنے فضول الہاموں کے ذریعہ سے ہلاک تو ہو گئے لیکن یہ بات غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ بذریعہ انہیں کے الہام کے ان کو ہلاک کرے خدا تعالیٰ کسی کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا مگر لوگ اپنی بے باکی اور شوخی سے آپ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کیا عقل سلیم اِس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ ایک خدا کا مامور صدی کے سر پر پیدا ہو اور لوگوں کو راہ راست کی طرف دعوت کرے اور اس سے خدا تعالیٰ مکالمہ مخاطبہ کرے اور ہزار ہانشان اس کی تائید میں ظاہر کرے اور پھر ایک شخص اُس کو قبول نہ کرے اور کہے کہ مجھے خود الہام ہوتا ہے اور اپنے الہام کے منجانب اللہ ہونے کی کوئی برہان واضح پیش نہ کرے لیکن انکار اور سبّ و شتم سے بھی باز نہ آوے۔ پس ایسا شخص اگر ہلاک ہو جاوے تو اپنی شوخی سے ہلاک ہوگا کیونکہ اُس نے بغیر ثبوت کے روشن ثبوت سے مُنہ پھیرلیا۔ اور جبکہ بابو صاحب کے پاس خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت اور زبردست شہادت اُن کے الہام کے منجانب اللہ ہونے پر موجود نہ تھی تو ایسے مدّعی کے مقابلہ پر شوخی کے ساتھ کھڑا ہونا جس کے ملہم ہونے پر خدا کی فعلی شہادت نہ ایک نہ دو بلکہ ہزار ہا زبردست شہادتیں ہیں۔ کیا یہ ایمانداری اور تقویٰ کا کام تھا پس اسی چالاکی اور بیباکی کے باعث بابو صاحب طاعون کے ساتھ ہلاک ہو گئے ورنہ خدا کے برگزیدہ طاعون سے ہلاک نہیں ہوا کرتے۔ اور جس حالت میں شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں اور حدیث النفس بھی تو پھر کسی قول کو کیونکر خدا کی طرف منسوب