کےؔ بعض حصوں میں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بڑے زور سے آیا مگر اُس کو بھی کالعدم قرار دیا۔ ایسا ہی خدا نے دوسرے ملکوں کے بارہ میں بھی بڑے زلزلوں کی خبر دی اور وہ سب پیشگوئیاں ظہور میں آگئیں مگر ان لوگوں نے اُن سے بھی نیکی کا سبق حاصل نہ کیا۔ اب اِن لوگوں کا مقابلہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اگر یہ تمام نشان درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ایک مامور بندے کی تائید میں ہیں تو وہ بس نہیں کرے گا جب تک اُن کے قبول کرنے کے لئے گردنیں نہ جھکا دے اور اگر خدا تعالیٰ سے نہیں ہیں تو یہ لوگ فتح یاب ہو جائیں گے۔
پھر صفحہ ۷۸ میں بابو الٰہی بخش صاحب اپنا یہ الہام پیش کرتے ہیں لا تستوی بآیات اللّٰہ اور اُسی جگہ پر اپنی طرف سے اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ جو آیات (نشان) خدائے عزّوجلّ نے خاکسار کے لئے مقدر فرمائے ہیں اُن کی برابری مرزا صاحب کی جماعت کو نصیب نہیں۔ اب ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ اس طرف تو اب تک صدہا نشان ظہور میں آچکے ہیں مگر بابو صاحب کے فرضی نشانوں کا کچھ پتہ نہیں۔ شاید آپ کے نزدیک آپ کا طاعون سے فوت ہونا ہی ایک نشان ہو۔
پھر صفحہ ۸۳ عصائے موسیٰ میں آپ لکھتے ہیں کہ جب مرزا صاحب کی طرف سے عاجز کو اظہار علامات کا سخت تقاضا ہوا تو الہام ہوا یریدون لیطفؤا نور اللّٰہ بافواھہم واللّٰہ متمّ نورہٖ ولو کرہ الکافرون۔ جو اور کا چاہے بُرا اُس کا بُرا ہو جائے گا۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے مُنہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر خدا تو اُس کو نہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کر لے۔ جو اور کا چاہے بُرا اُس کا بُرا ہو جائے گا۔
اب کوئی بتلا سکتا ہے کہ میاں الٰہی بخش کے ہاتھ سے کون سا نور پورا ہوا اور بابو صاحب کا یہ الہام کہ جو اور کا چاہے بُرا اُس کا بُرا ہو جائے گا۔ بڑی صفائی سے پورا ہو گیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ میں طاعون سے ہلاک ہو جاؤں اور اسی بنا پر انہوں نے الہام بھی شائع کیا تھا۔ سو آخر وہ خود طاعون سے فوت ہو گئے۔ بابو صاحب کے رفیقوں کو اِس جگہ کچھ سوچنا چاہئے۔ کیا یہی