بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔
(۲)ؔ دوسرے یہ کہ کسی شخص کی نسبت واقعی طور پر ایک پیشگوئی تو ہے مگر وہ پیشگوئی وعید اور عذاب کے رنگ میں تھی اور اپنی شرط کے موافق پوری ہو گئی یا کسی وقت اُس کا ظہور ہو جائے گا۔
(۳) تیسرے یہ کہ محض ایک اجتہادی امر ہے اور اُس کو خدا کا کلام قرار دے کر پھر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی تھی جو پوری نہیں ہوئی جبکہ یہ حال ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی نبی ان کی زبان سے بچ نہیں سکتا۔
میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مخالف مشرق اور مغرب کے جمع ہو جاویں تو میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گذشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو اپنی چالاکیوں کی وجہ سے ہمیشہ رُسوا ہوتے ہیں اور پھر باز نہیں آتے۔ اور خدا تعالیٰ میرے لئے اِس کثرت سے نشان دِکھلا رہا ہے کہ اگر نوحؑ کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔ مگر میں ان لوگوں کو کس سے مثال دوں وہ اُس خیرہ طبع انسان کی طرح ہیں جو روزِ روشن کو دیکھ کر پھر بھی اِس بات پر ضد کرتا ہے کہ رات ہے دن نہیں۔خدا تعالیٰ نے اُن کو پیش از وقت طاعون کی خبر دی اور فرمایا الامراض تشاع والنفوس تضاع مگر انہوں نے اِس نشان کی کچھ بھی پروانہ کی۔ پھر خدا نے غیر معمولی زلزلہ کی خبر دی جو اِس مُلک میں ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کو آنے والا تھا اور وہ آیا اور صدہا آدمیوں کو ہلاک کر گیا۔ مگر ان لوگوں نے اُس کی بھی کچھ پروا نہ کی۔ پھر خدا نے فرمایا کہ بہار میں ایک اور زلزلہ آئے گا۔ سو وہ بھی آیا مگر ان لوگوں نے اُس کو بھی نظر انداز کیا۔ پھر خدا نے ایک آتشی شعلہ کی خبر دی تھی جو ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء کو ظاہر ہوا اور قریباً ہزار میل تک عجیب شکل میں مشاہدہ کیا گیا۔ لیکن ان لوگوں نے اِس سے بھی کچھ سبق حاصل نہ کیا۔ پھر خدا نے یہ پیشگوئی کی کہ بہار کے موسم میں سخت بارشیں ہوں گی سخت برف اور اولے پڑیں گے اور سخت درجہ کی سردی ہوگئی مگر ان لوگوں نے اِس عظیم الشان نشان کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ پھر خدا نے اِسی مارچ ۱۹۰۷ء میں ایک اور زلزلہ کی خبر دی جو پشاور