ہے۔ خدا کے سچے نبی مسیلمہ کذّاب یا دیگر جھوٹے مدعیان سے صرف اجتہادی غلطی سے جو ان کی کسی پیشگوئی میں ہو مشابہ نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں سچائی کے انوار اور برکات اور معجزات اور الٰہی تائیدات اِس قدر ہوتی ہیں جو ان کی سچائی کی تیز دھار مخالف کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے اور اُن کے ہزار ہانشان ایک پُر زور دریا کی طرح موجزن ہوتے ہیں۔ ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ اِس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میراجواب یہ ہے کہ اُس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اِس قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اُس نے اِس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔ یہ تو وہ اعتراض مخالف لوگوں کے ہیں جن کو بابو الٰہی بخش صاحب نے بار بار اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں لکھ کر اپنی دانست میں بڑا ثواب حاصل کر لیا ہے جس کی حقیقت مرنے کے بعد اُن پر کھل گئی ہوگی۔ لیکن عام فائدہ کے لئے میں اس جگہ بیان کرتا ہوں کہ ان مخالفوں کے اعتراض میرے نشانوں کے بارے میں تین قسم سے باہر نہیں ہیں۔ (۱) اوّل محض افترااور تہمتیں ہیں جو خدا تعالیٰ کے قہر سے بے خوف ہو کر میرے پر کی ہیں اور نہایت درجہ کی شرارت اور بے باکی سے شہرت دیدی ہے کہ فلاں پیشگوئی جو فلاں شخص کی نسبت تھی پوری نہیں ہوئی۔ حالانکہ جس پیشگوئی کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں ہر گز اس کی نسبت وہ پیشگوئی نہیں کی گئی تھی جیسا کہ پیشگوئی کلب یموت علٰی کلب جومولوی محمد حسین صاحب کی طرف خود بخود منسوب کر دیتے ہیں پس اِس کاجواب