فضل و کرم سے اب تک زندہ ہیں۔ پس خدا کے علم میں مرنے والے کی طرف وہ پیشگوئی منسوب نہیں ہو سکتی اور خدا کے نزدیک وہ کالعدم ہے اور خدا کی پیشگوئی ایک جینے والے لڑکے کے متعلق تھی۔ خدا کا ایسا کوئی الہام نہیں کہ وہ عمر پانے والا لڑکا پہلے حمل سے ہی پیدا ہوگا اور اگر کوئی اجتہادی خیال ہو تو اس پر اعتراض کرنا اُن لوگوں کا کام ہے جو نبی کے اپنے اجتہاد کو واجب الوقوع سمجھتے ہیں تعجب کہ یہ لوگ کیسے اپنے افتراسے ایک اعتراض بنا لیتے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ جب انسان جھوٹ بولنا روا رکھ لیتا ہے تو حیا اور خدا کا خوف بھی کم ہو جاتاہے۔ ناظرین یاد رکھیں کہ میری طرف سے کبھی کوئی ایسی پیشگوئی شائع نہیں ہوئی جس کے الہامی الفاظ میں یہ تصریح کی گئی ہو کہ اِسی حمل سے لڑکا پیدا ہوگا۔ رہا اجتہاد تو میں اس بات کا خود قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس نے کبھی اجتہاد میں غلطی نہیں کی۔ جب وہ نبی جو تمام انبیاء سے افضل تھا اجتہادی غلطی سے بچ نہ سکا۔ چنانچہ حدیبیہ کا سفر اجتہادی غلطی تھی۔ یمامہ کو ہجرت گاہ قرار دینا اجتہادی غلطی تھی تو پھر دوسروں پر کیا اعتراض۔ ایک نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے مگر خدا کی وحی میں غلطی نہیں ہوتی۔ ہاں اس کے سمجھنے میں اگر احکام شریعت کے متعلق نہ ہو کسی نبی سے غلطی ہو سکتی ہے جیسا کہ ملاکی نبی اس راز کو سمجھ نہ سکا کہ الیاس نبی کا دوبارہ آسمان سے نازل ہونا حقیقت پر محمول نہیں بلکہ استعارہ کے رنگ میں ہے اور اسرائیلی کوئی نبی توریت کی پیشگوئی سے یہ نہ سمجھ سکا کہ آخری نبی بنی اسمٰعیل میں سے ہے۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ نے بھی اجتہادی غلطی سے اپنے تئیں بادشاہ بننا یقین کر لیا اور کپڑے بیچ کر ہتھیار بھی خریدے گئے۔ یہودا اسکریوطی کو بہشت کا ایک تخت بھی دیا گیا۔ پھر اسی زمانہ میں آسمان سے واپس آنے کا بھی پختہ وعدہ دیا آخر وہ سب پیشگوئیاں غلط نکلیں۔ پس جس امر میں تمام انبیاء شریک ہیں اور ایک بھی اُن میں سے باہر نہیں اس کو اعتراض کی صورت میں پیش کرنا کسی متقی کا کام نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ اجتہادی غلطی انبیاء کے لئے اس واسطے مقرر کر رکھی ہے تا وہ معبود نہ ٹھہرائے جائیں مگر اِس سے ان کی اتمام حجت میں کچھ فرق نہیںآتا۔ کیونکہ معجزات کثیرہ سے ان کی حقیقت ثابت ہو جاتی