بھی ہمارا یہ ایمان ہے کہ خدا اس وعدہ کا تخلف نہیں کرتا جو اُس کے علم کے موافق ہے لیکن اگر انسان اپنی غلطی سے ایک بات کو خدا کا وعدہ سمجھ لے جیسا کہ حضرت نوح نے سمجھ لیا تھا ایسا تخلف وعدہ جائز ہے کیونکہ دراصل وہ خدا کا وعدہ نہیں بلکہ انسانی غلطی نے خواہ نخواہ اُس کو وعدہ قرار دیا ہے اِسی کے متعلق سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں قد یوعد ولا یوفٰی یعنی کبھی خدا تعالیٰ وعدہ کرتاہے اور اُس کو پورا نہیں کرتا۔ اس قول کے بھی یہی معنی ہیں کہ اس وعدہ کے ساتھ مخفی طور پر کئی شرائط ہوتے ہیں *اور خدا تعالیٰ پر واجب نہیں کہ تمام شرائط ظاہر کرے پس اس جگہ ایک کچا آدمی ٹھوکر کھاکر منکر ہو جاتا ہے اور کامل انسان اپنے جہل کا اقرار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی لڑائی کے وقت باوجود یکہ فتح کا وعدہ تھا بہت رو رو کر دعا کرتے رہے اور جناب الٰہی میں عاجزانہ یہ مناجات کی کہ اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ لَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا*کیونکہ آپ اس سے ڈرتے تھے کہ شاید اس وعدہ کے اندر کوئی مخفی شرائط ہوں جو پوری نہ ہو سکیں۔ ہر کہ عارف ترست ترساں تر۔ ایسا ہی بابو صاحب کا ایک یہ بھی اعتراض تھا کہ لڑکا پیدا ہونے کی پیشگوئی کی تھی مگر لڑکی پیدا ہوئی۔ مگر وہ جانتے ہیں کہ لڑکی کا وجود عدم کی طرح تھا کیونکہ بعد اس کے وہ مر گئی اور اس کے بعد ایک لڑکا بھی مر گیا۔ پھر بعد اس کے خدا نے متواتر چار لڑکے دیئے جو اُس کے * یہ عادت اللہ قدیم سے جاری ہے کہ اس کی پیشگوئیوں میں کوئی حصہ متشابہات کا ہوتا ہے اور کوئی بیّنات کا اور کبھی بعض پیشگوئیاں صرف متشابہات کے رنگ میں ہوتی ہیں اور ایک جاہل آدمی صرف متشابہات پر نظر رکھ کر پیشگوئی کی تکذیب کرتا ہے حالانکہ اگر کوئی پیشگوئی جو متشابہات میں سے ہے ملہم کے خیال کے مطابق ظہور میں نہ آوے تو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ وہ جھوٹی نکلی بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ملہم کے اپنے خیال میں غلطی ہوئی جیسا کہ حدیث ذَھَبَ وَھْلِیْ اس پر شاہد حال ہے ہاں برگزیدوں کی پیشگوئیوں میں متشابہات کم ہوتے ہیں اور بیّنات زیادہ۔ مگر ہوتے ضرور ہیں تا خدا اس سے صالح اور فاسق کا امتحان کرے اور خدا کے برگزیدہ کثرت بیّنات سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ایسا نہیں کہ ان کی پیشگوئیاں متشابہت سے بالکل پاک ہوتی ہیں۔ منہ * یعنی اے میرے خدا اگر تونے اس گروہ کو ہلاک کر دیا تو پھر زمین پر کوئی تیری پرستش نہیں کرے گا۔ منہ