اِس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خدا جس نے اپنا ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ڈال دے۔
غرض بے حیا لوگ ان اعتراضوں کے وقت نہیں سوچتے کہ ایسے اعتراض سب نبیوں پر پڑتے ہیں۔ نمازیں بھی پہلے پچاس۵۰ نمازیں مقرر ہو کر پھر پانچ۵ رہ گئیں اور توریت پڑھ کر دیکھو صدہا مرتبہ خدا کے قرار دادہ عذاب حضرت موسیٰ کی شفاعت سے منسوخ کئے گئے ایسا ہی یونس کی قوم پر آسمان پر جو ہلاکت کا حکم لکھا گیا تھا وہ حکم ان کی توبہ سے منسوخ کر دیا گیا اور تمام قوم کو عذاب سے بچا لیا گیا۔ اور بجائے اس کے حضرت یونسؑ خود سخت مصیبت میں پڑ گئے کیونکہ اُن کو یہ خیال دامنگیر ہوا کہ پیشگوئی قطعی تھی اور خدا کا ارادہ عذاب نازل کرنے کا مصمّم تھا۔ افسوس کہ یہ لوگ یونسؑ کے قصہ سے بھی کچھ سبق حاصل نہیں کرتے۔ اُس نے نبی ہو کر محض اِس خیال سے سخت مصیبتیں اُٹھائیں کہ خدا کا قطعی ارادہ جو آسمان پر قائم ہو چکا تھا کیونکر فسخ ہو گیا ہے۔ اور خدا نے توبہ پر ایک لاکھ آدمی کی جان کو بچالیا اور یونسؑ کے منشاء کی کچھ بھی پروا نہ کی۔
کیسے نادان وہ لوگ ہیں جن کا یہ مذہب ہے کہ خدا اپنے ارادوں کو بدلا نہیں سکتا اور وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی کو ٹال نہیں سکتا۔ مگر ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ ٹال سکتا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہے گا اور ہم ایسے خدا پر ایمان ہی نہیں لاتے کہ جو بلا کو توبہ اور استغفار سے ردّ نہ کر سکے اور تضرع کرنے والوں کے لئے اپنے ارادوں کو بدل نہ سکے وہ ہمیشہ بدلتا رہے گا یہاں تک کہ پہلی آسمانی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کی صرف پندرہ ۱۵دن کی عمر رہ گئی تھی خدا نے اُس کی تضرع اور گریہؔ وزاری سے بجائے پندر ۱۵ہ دن کے پندرہ ۱۵سال کر دیئے یہی ہمارا ذاتی تجربہ ہے ایک خوفناک پیشگوئی ہوتی ہے اور دُعاسے ٹل جاتی ہے۔ پس اگر ان لوگوں کا فرضی خدا ان باتوں پر قادر نہیں تو ہم اُس کو نہیں مانتے۔ ہم اُس خدا کو مانتے ہیں جس کی صفت قرآن شریف میں یہ لکھی ہے کہ3 3 ۱ اور وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی ٹلنے کے بارہ میں تمام نبی متفق ہیں۔ رہی وعدہ کی پیشگوئی جس کی نسبت یہ حکم ہے کہ3 ۲ ا س کی نسبت