دنیا اُن کا کسی بات میں مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ ہر ایک راہ میں خدا اُن کے ساتھ ہوتا ہے اور ہر ایک میدان میں خدا کا ہاتھ اُن کو مدد دیتا ہے۔ ہزارہا نشان اُن کی تائید اور نصرت میں ظاہر ہوتے ہیں اور ہر ایک جو اُن کی دشمنی سے باز نہیں آتا آخر وہ بڑی ذِلّت کے ساتھ ہلاک کیا جاتا ہے۔ کیونکہ خدا کے نزدیک اُن کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ خدا حلیم ہے اور آہستگی سے کام کرتا ہے لیکن ہر ایک جو اُن کی دشمنی سے باز نہیں آتا اور عمداً ایذا پر کمر ؔ بستہ ہے خدا اُس کے استیصال کے لئے ایسا حملہ کرتا ہے کہ جیسا کہ ایک مادہ شیر (جبکہ کوئی اُس کے بچہ کو مارنے کے لئے قصد کرے) غضب اور جوش کے ساتھ اُس پر حملہ کرتی ہے اور نہیں چھوڑتی جب تک اُس کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دے۔ خدا کے پیارے اور دوست ایسی مصیبتوں کے وقت میں ہی شناخت کئے جاتے ہیں جب کوئی اُن کو دُکھ دینا چاہتا ہے اور اس ایذا پر اصرار کرتا ہے اور باز نہیں آتا تب خدا صاعقہ کی طرح اُس پر گرتا ہے اور طوفان کی طرح اپنے غضب کے حلقہ میں اُس کو لے لیتا ہے اور بہت جلد ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ ہے جس طرح تم دیکھتے ہو کہ آفتاب کی روشنی اور کرمِ شب چراغ کی روشنی میں کوئی اشتباہ نہیں ہو سکتا اِسی طرح وہ نور جو اُن کو دیا جاتا ہے اور وہ نشان جو اُن کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں اور وہ روحانی نعمتیں جو اُن کو عطاہوتی ہیں اُن کے ساتھ کسی کا اشتباہ واقع نہیں ہو سکتا اور اُن کی نظیر کسی فرد میں پائی نہیں جاتی۔ خدا اُن پر نازل ہوتا ہے اور خدا کا عرش اُن کا دِ ل ہو جاتا ہے اور وہ ایک اور چیز بن جاتے ہیں جس کی تہ تک دنیا نہیں پہنچ سکتی۔
اور یہ سوال کہ کیوں خدا اُن سے ایسا تعلق پکڑ لیتا ہے؟ اِس کا یہ جواب ہے کہ خدا نے انسان کی ایسی فطرت رکھی ہے کہ وہ ایک ایسے ظرف کی طرح ہے جو کسی قسم کی محبت سے خالی نہیں رہ سکتا اور خلایعنی خالی رہنا اُس میں محال ہے پس جب کوئی ایسا دل ہو جاتا ہے کہ نفس کی محبت اور اُس کی آرزوؤں اور دنیا کی محبت اور اُس کی تمناؤں سے بالکل خالی ہو جاتا ہے اور سفلی محبتوں کی آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے تو ایسے دل کو جو غیر کی محبت سے خالی ہو چکا ہے خدا تعالیٰ تجلّیات حسن و جمال کے ساتھ اپنی محبت سے پُر کر دیتا ہے تب دنیا اُس سے دشمنی