کے قریب عیسائی تھے نہایت خوف اور انکسار کی حالت بناکر زبان مُنہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے اور بیان کیا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر گز دجّال نہیں کہا اور پھر معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ پند ۱۵رہ مہینہ تک روتا رہا اور خدا تعالیٰ نے بھی مجھے اپنے الہام کے ذریعہ سے خبر دی کہ اِس پیشگوئی کے ذریعہ سے اُس کو سخت صدمہ پہنچا اور وہ دیوانہ کی طرح ہو گیا ہے اور اُس کے دل میں عظمت اسلام بیٹھ گئی اور اُس نے شوخی اور بد زبانی قطعاً چھوڑ دی اور باوجود ان سب باتوں کے عیسائی مذہب پر قائم رہنے کے ثبوت کے لئے اُس نے قسم نہیں کھائی حالانکہ اس قسم پر چار ہزار۴۰۰۰ روپیہ نقد اُس کو ملتا تھا اور عیسائی مذہب میں قسم کھانا نہ صرف جائز بلکہ بعض صورتوں میں فرض لکھا ہے اور اس امر کو چھپانا محض بے ایمانی اور شرارت ہے حضرت عیسیٰ نے خود قسم کھائی۔ پولوس نے قسم کھائی۔ پطرس نے قسم کھائی۔ پس یہ تمام دلائل آتھم کے رجوع پر ہیں اور ایک منصف کے لئے کافی ہیں اور اگر اُس کے رجوع پر کوئی دلیل بھی نہ ہوتی تب بھی میرے لئے یہ کافی تھا کہ خدانے اُس کے رجوع کی مجھے خبر دی اور با ایں ہمہ وہ میرے آخری اشتہار سے چھ ۶ماہ گذر نے کے بعد مر گیا۔ پس جبکہ پیشگوئی شرطی تھی اور شرط کے آثار ظاہر ہو گئے تھے تو پھر کسی خدا ترس آدمی کا کام نہیں ہے کہ حیا اور شرم کو ترک کرکے پھر بھی اعتراض سے باز نہ آوے حالانکہ یہ مسئلہ مسلّم ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئیوں میں کسی شرط کی بھی ضرورت نہیں وہ ٹل سکتی ہیں کیونکہ وہ مجرم کے لئے ایک عذاب دینے کا وعدہ ہے اور خدا حقیقی بادشاہ ہے وہ کسی کی توبہ اور استغفار سے اپنے عذاب کو معاف کر سکتا ہے جیسا کہ یونس نبی کی قوم کو معاف کر دیا اِسی پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ آپ فرماتا ہے 3333 ۱؂ یعنی اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو جھوٹ بولنے کا عذاب اس پر نازل ہوگا اور اگر سچا ہے تو بعض عذاب جن کا وہ وعدہ دیتا ہے تم پر وارد ہو جائیں گے۔ اب دیکھو خدا نے بعض کا لفظ اِس جگہ استعمال کیا نہ کل کا جس کے یہ معنی ہیں کہ جس قدر عذاب کی اس نبی نے پیشگوئیاں کی ہیں اُن میں بعض تو ضرور پوری ہو جائیں گی۔ گو بعض معرض التوا میں رہ جائیں گی۔ پس