نص قرآنی سے یہ ثابت ہے کہ عذاب کی پیشگوئی کا پورا ہونا ضروری نہیں ہاں اِس آیت سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مفتری کسی طرح عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کے لئے یہ قطعی حکم ہے کہ33 ۱ پس اگر مفتری کے لئے کوئی عذاب کی پیشگوئی ہو تو وہ ٹل نہیں سکتی۔
ہائے افسوس کچھ سمجھ نہیں آتا یہ کیسی بے حیائی ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ اقرار کرتے ہیں کہ صدقہ خیرات اور دعا وغیرہ سے بلا ردّ ہوجاتی ہے۔ اور دوسری طرف اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ جس بلا کی اطلاع رسول کو دی جائے کہ فلاں قوم یا فلاں شخص پر وارد ہوگی وہ بلا صدقہ خیرات یا توبہ استغفار سے ٹل ہی نہیں سکتی۔ تعجب یہ کہ کیسے ان لوگوں کی عقل پر پردے پڑ گئے کہ اپنی کلام میں تناقض جمع کر لیتے ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ توبہ استغفار سے بلا ٹل سکتی ہے اور یہ بھی کہ نہیں ٹل سکتی اور پھر جبکہ مجھے خدا نے اپنے الہام کے ذریعہ سے اطلاع دے دی کہ آتھم نے ضرور رجوع کیا تھا اور آتھم کے قول اور فعل سے اس کے آثار بھی ظاہر ہو گئے تو پھر ان شرارتوں سے باز نہ آنا کیا یہی اُن لوگوں کی تقویٰ ہے کم سے کم کَفِّ لِسان پر کیوں کفایت نہ کی *۔
* جنؔ لوگوں کو خدا کا خوف نہیں ہے وہ ایسی نکتہ چینیاں کرتے ہیں جن کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے اعتراض کے نیچے آجاتے ہیں چنانچہ بعض نادان کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے بعض لوگ بھی طاعون سے ہلاک ہو گئے ہیں منجملہ ان کے ڈاکٹر عبد الحکیم خان بھی ہے جو بہت خوش ہو کر لکھتا ہے کہ سنور میں فلاں فلاں احمدی طاعون سے فوت ہو گیا ہے۔ ہم ایسے متعصبوں کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کا طاعون سے فوت ہونا بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہؓ لڑائیوں میں شہید ہوتے تھے۔ یہ امر تو قرآن کی نص صریح سے ثابت ہے کہ وہ لڑائیاں محض کافروں پر عذاب نازل کرنے کے لئے تھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ اگر چاہوں تو ان کافروں پر آسمان سے عذاب نازل کروں اور یا زمین سے ان کے لئے عذاب پیدا کروں اور یابعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھاؤں۔ مگر باایں ہمہ ان لڑائیوں میں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہوتے رہے لیکن آخری نتیجہ یہ تھا کہ کافر گھٹتے گئے اور مسلمان بڑھتے گئے اور وہ لڑائیاں مسلمانوں کے لئے سراسر برکت کا موجب ہو گئیں اور کافروں کی بیخ کنی کر گئیں۔ اسی طرح مَیں کہتا ہوں اور بڑے دعویٰ اور زور سے کہتا ہوں کہ اگر ایک شخص ہماری جماعت میں سے طاعون سے مرتا ہے تو بجائے اس کے سو۱۰۰ آدمی یا زیادہ ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے اور یہ طاعون ہماری جماعت کو بڑھاتی جاتی ہے اور ہمارے مخالفوں کو نابود کرتی جاتی ہے۔ ہر ایک مہینہ میں کم سے کم پانسوؔ آدمی اور کبھی ہزار