ہزار نکتۂ باریک تر زِ مُو ایں جاست
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند
پھر بابو الٰہی بخش صاحب اپنی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۶۹ میں فرماتے ہیں خاکسار کو عجز بشریت سے یہ خیال آیا کہ شاید مرزا صاحب کی ناراضگی سے کچھ نقصان ہو۔ اس پر الہام ذیل میں حفاظت وسلامتی کی تسلی فرمائی گئی واللّٰہ خیر حافظا وھو ارحم الراحمین* فسلام لک یعنی تیرا خدا حافظ ہوگا اور تجھے سلامتی رہے گی کوئی قہر الٰہی تجھ پر نازل نہیں ہوگا یہ ہے الہام بابو صاحب کا جس نے اُن کو تسلی دی کہ فریق مخالف یعنی اس عاجز مظلوم کی بد دعا سے اُن کا کوئی نقصان نہیں ہوگا وہ سلامت رہیں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی الہام نے اُن کو بد زبانی اور گالیاں دینے میں چالاک کر دیا۔ پھر اس کے بعد اُن کی بد زبانی ایسی بڑھ گئی جیسے کسی دریا کا پُل ٹوٹ کر اِرد گرد کی بستیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
افسوس کہ صدہا نشان اُن کی زندگی میں پورے ہوئے مگر کسی نشان سے اُنہوں نے فائدہ نہ اُٹھایا اور ہر ایک نشان کے دیکھنے کے بعد یا کسی سے اُس کا حال سُننے کے بعد یہی بار بار اُن کا جواب تھا کہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا احمد بیگ کا داماد اب تک زندہ ہے حالانکہ الہام تھاکہ احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح آسمان پر پڑھا گیا ہے۔ اور اُن کی رہنمائی کے لئے بار بار کتابوں میں لکھا گیا کہ ڈپٹی آتھم تو بہر حال فوت ہو چکا ہے میعاد کے اندر مرا یا میعاد کے باہر مرا آخر مر تو گیا اور یہ پیشگوئی شرطی تھی یعنی مرنا اس کا اِس شرط سے تھا کہ جب حق کی طرف وہ رجوع نہ کرے لیکن آتھم نے جلسہ مباحثہ میں ہی اپنا رجوع ظاہر کر دیاجب اُس کو کہا گیا کہ یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے کہ تم نے اپنی کتاب اندرونہ بائیبل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجّال رکھا ہے تب اُس نے ساٹھ یا ستر آدمیوں کے رو برو جن میں نصف
* افسوس ان کا کوئی دوست بھی اِس بات کو نہیں سوچتا کہ جبکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ان کی حفاظت کرے گا۔ اور میرا ناراض ہونا اُن کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا تو پھر یہ کیا بات ہوئی کہ طاعون نے بابو صاحب کو آپکڑا۔ کہاں گئی وہ حفاظت جس کا وعدہ تھا۔ منہ