ہیںیا نصف حصہ اُن کا پورا ہوچکا ہے اور وہ وعید کی پیشگوئیاں ہیں اور سُنت اللہ کے موافق اُن پر کوئی اعتراض نہیں۔ بار بارا نہیں کو پیش کرتے ہیں کیا یہ ایمانداری ہے کہ دس ہزار نشان سے مُنہ پھیرنا اور اگر کسی نشان کی حقیقت سمجھ نہ آوے تو اس پر زور دینا اگر یہی بات ہے تو ان لوگوں کا ایمان آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی معاملہ مجھ سے ایسا نہیں جس میں کوئی نبی شریک نہ ہو اور کوئی اعتراض میرے پر ایسا نہیں کہ کسی اور نبی پر وہی اعتراض وارد نہ ہوتا ہو۔ پس ایسے شخص جو میرے پر اعتراض کرنے کے وقت یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہ اعتراض بعض اور نبیوں پر بھی وارد ہوتا ہے وہ سخت خطرناک حالت میں ہیں اور اندیشہ ہے کہ دہریہ ہو کر نہ مریں*۔ یاد رہے کہ جس اصرار اور شوخی کے ساتھ بابو الٰہی بخش نے میرے ساتھ مقابلہ کیا اور میری طاعونی موت اور ہر ایک قسم کی نامرادی کی خبریں دیں۔ اگر یہ معاملہ اسی طرح واقع ہو جاتا اور میں بابو الٰہی بخش کی زندگی میں مر جاتا تو نہ معلوم کہ بابو صاحب کے دوست کن کن لعنتوں کے ساتھ مجھ کو یاد کرتے اور کس معراج عزت اور اوج پر اُن کو چڑھا دیتے مگر اب ایک شخص بھی اُن میں سے نہیں بولتا اور چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ نشان معدوم ہو جائے اور اُن کو خوب معلوم ہے کہ ؔ بابو صاحب مباہلہ اور میری پیشگوئی کا نشانہ ہو گئے ہیں اگر وہ نرمی اختیار کرتے تو شاید کوئی دن اور بچ جاتے مگر اُن کے حدیث النفس کے الہام اُن کے لئے زہر قاتل ہو گئے۔ اُن کو خبر نہ تھی کہ خدا کا سچا مکالمہ موت کے بعد حاصل ہوتا ہے جو شخص درحقیقت اپنی تمام ہوا و ہوس اور جذبات نفسانیہ اور ہر ایک قسم کی تیزی اور شوخی کے جوش سے پاک ہو جاتا ہے اور اُس پر خدا کے لئے ایک موت آجاتی ہے وہی زندہ کیا جاتا ہے اور خدا کا مکالمہ فانیوں کے لئے ایک انعام ہوتا ہے۔ ہر ایک مدعی کو یہ دیکھنا چاہئیے کہ درحقیقت وہ فانی ہو چکا ہے یا ابھی جذباتِ نفسانیہ سے پُر ہے۔ * بعض شریر کذاب کہتے ہیں کہ اگر مرزا سے نشان ظاہر ہوتے ہیں تو مسیلمہ کذّاب سے بھی نشان ظاہر ہوئے ہیں ان کے جواب میں صرف یہ کہنا کافی ہے کہ لعنۃ اللّٰہ علَی الکاذبین۔ منہ