مُرشد تھے بر خلاف اُن کے تمام دعووں کے فوت ہو کر ایک سخت مصیبت میں اُن کو چھوڑ گئے اور طاعونی مادّہ سے گھر کو بھی آلودہ کر گئے۔ اب بھی خدا تعالیٰ اُن کے رفیقوں کو کچھ سمجھ دے تا وہ حق کو شناخت کر لیں۔ پھر صفحہ ۲۹۴ میں ایک اور الہام اُن کا ہے اور وہ یہ ہے قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ قل لَسْتَ مُرْسلًا ذرھم یخوضوا ویلعبواحتّی یلاقوا یومھم الذی کانوا یوعدون یعنی حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور اپنے مخالف کو یعنی اِس عاجز کو کہہ دے کہ تو خدا کی طرف سے نہیں اور ان کو چھوڑ دے تا وہ چند روز لہو و لعب میں رہیں جب تک کہ طاعونی موت کا وعدہ جو دیا گیا ہے وہ وعدہ کا دن نہ آجائے سبحان اللہ یہ کیسے الہام ہیں یہ کیسا حق تھا کہ جھوٹ کے سامنے سے بھاگ گیا اور الہام کو جھوٹا کر گیا اور یہ کیسا وعدہ طاعون کا تھا جو غلطی کھا کر خود ملہم پر ہی وارد ہو گیا۔ کوئی منصف بتلا وے کہ یہ الہامات اگر شیطانی نہیں تھے تو اور کیا تھا۔ اگر خدا اپنے پیاروں کو ہمیشہ طاعون سے بچاتا رہا ہے تو بے چارہ الٰہی بخش جس کو یہ الہام ہوا تھا کہ بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر اور یہ الہام ہوا تھا قل ان کنتم تحبُّوؔ ن اللّٰہ فاتّبعونی یحببکم اللّٰہ اس کو اس سنت اللہ سے کیوں محروم رکھا گیا۔ جو شخص خدا کے بعد سب سے بزرگ تر ہے اور پھر خدا کا ایسا پیارا کہ اُس کی پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے اس پر کیوں یہ رجز آسمانی نازل کیا گیا جوعموماً فاسقوں اور فاجروں پر نازل ہوتاہے۔ کیا ابھی وقت نہیںآیا کہ منصف مزاج لوگ اس بات کو سمجھ لیں کہ بابو الٰہی بخش کا ایسی نامرادی کے ساتھ دنیا سے کوچ کرنا اور پھر طاعون سے کوچ کرنا اور پھر تمام الہامات کے منشاء کے برخلاف کُوچ کرنا ایک فیصلہ کُن امر ہے۔ اور اگر متعصب لوگ ابھی سمجھ نہیں سکتے تو یقیناًیاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کسی سے عاجز نہیں ہو سکتا وہ کوئی اور نشان دکھائے گا مگر افسوس اُن لوگوں پر جو خدا کے صدہا نشان جو روز روشن کی طرح ظاہر ہوتے جاتے ہیں اُن سے تو کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے اور صرف دو تین ایسی پیشگوئیاں جونفسِ امر کے متعلق پوری ہو گئی