آیا ہے33 ۱ ہاں مومن مُذنب جو اول طبقہ میں داخل نہیں اور گناہوں اور کمزوریوں سے خالی نہیں اس کو کبھی تمحیص اور تطہیر کی غرض سے طاعون ہو سکتی ہے۔ مگر خدا سے جو موسیٰ بن کر آیا ہے اُس کو تو نہیں ہو سکتی۔ بلکہ کامل مومن اِس آیت کے نیچے ہیں کہ 3 ۲
اور اگر آپ منشی الٰہی بخش صاحب کو فرقہ ضالّین میں داخل سمجھتے ہیں تب تو یہ خطاب اُن کے لئے نہایت معقول ہے کیونکہ عمدًا اُنہوں نے حق کو چھوڑ دیا اور پھر اس قدر بد زبانی اور شوخی اور اشتعال میں کمال کو پہنچ گئے کہ کیا مجال کہ کوئی بات بھی سُن سکیں جس شخص نے میرا ذِکر اُن کے سامنے پیش کیا اوّل تو مجھے اُنہوں نے دس بیس گالیاں سُنا دیں اور پھر عمداً سچی بات سے انکار کر دیا مگر آخر خدا تعالیٰ ہر ایک دل کو جانتا ہے پس درحقیقت اُن کے ساتھ جو خدا تعالیٰ نے ایک معاملہ کیا ہے وہ دانشمندوں کے لئے ایک عبرت کے لائق ہے اور میرا دل جانتا ہے کہ انہوں نے مجھے بہت ہی دُکھ دیا تھا۔
تا دلِ مردِ خدا نامد بدرد
ہیچ قومے را خدا رُسوا نہ کرد
بھلاؔ آپ لوگ خدا تعالیٰ کا خوف مد نظر رکھ کر یہ تو بتلاویں کہ کیا آپ لوگوں کی یہی مراد تھی اور سچ مچ آپ کی یہی تمنّا تھی کہ الٰہی بخش تو نامرادی کے ساتھ طاعون سے مر جائے اور وہ اُس کا مخالف جس کے لئے اُس نے ہزاروں انسانوں میں شہرت دے دی تھی کہ وہ طاعون سے مرے گا خدا اُس کو اِس مرض سے بچاوے اور اُس کو نمایاں ترقیات بخشے اور صدہا نشان اُس کے لئے دکھلاوے یہاں تک کہ الٰہی بخش کی موت کو بھی اُس کے نشانوں میں سے ایک نشان کر دے۔ کیا وہ الہام جو بابو الٰہی بخش صاحب کو ہوا تھا کہ یمیز الخبیث من الطیّب یعنی خدا پاک اور ناپاک میں امتیاز کرکے دکھلاوے گا۔ کیا اس کے یہی معنی تھے کہ بابو الٰہی بخش طاعون سے ہلاک ہو کر اپنے پس ماندوں کو داغ حسرت دے جاوے گا۔ وہ دن کیسا سخت اور تلخ منشی عبد الحق صاحب اور ان کے دوستوں پر تھا جبکہ اُن کے گھر میں بابو صاحب جو ان کے