اور ہر ایک پہلو سے خُدا نے میری مدد کی اور قرآن شریف میں کھلے طور پر لکھا ہے کہ33 ۱؂ یعنی خدا تعالیٰ کا یہ حتمی وعدہ ہے کہ جو لوگ اُس کی طرف سے آتے ہیں وہ فریق مخالف پر غالب ہو جاتے ہیں۔ پس اس میں کیا راز ہے کہ بابو صاحب میرے مقابل پر غالب نہ آسکے اور ایک بڑا طاعون کا طوفان جو اس مُلک میں اٹھا تھا اور اُس طوفان سے زیادہ تھا جو موسیٰ اور فرعون کے سامنے نمودار ہوا تھابلکہ اس سے بہت ہی بڑا تھا۔ اس طوفان میں بابو صاحب باوجود موسیٰ کہلانے کے غرق ہو گئے اور جس کو فرعون کہتے تھے اُس کو خدا نے اپنے فضل و کرم سے نجات دی۔ مَیں یقیناًسمجھتا ہوں کہ اس وقت ان کے مُنہ سے یہ الفاظ ضرور نکلے ہوں گے کہ3 ۲؂ پھر میں پوچھتا ہوں کہ خدا نے سورہ فاتحہ میں جو اُمّ الکتاب ہے انسانوں کے تین طبقے رکھے ہیں۔ (۱) منعم علیہم (۲) مغضوب علیہم (۳) ضالین۔ پس اب سوچ کر فرماویں کہ بابو الٰہی بخش صاحب کو خدا تعالیٰ نے کس طبقہ میں داخل کیا ہے۔ اگر آپ کے نزدیک وہ ؔ منعم علیہم میں داخل ہیں تو یہ ثبوت آپ کے ذمّہ ہے کہ جو طبقہ منعم علیہم کا کتاب اللہ سے ثابت ہے۔ اس طبقہ والوں کو کبھی طاعون بھی ہوئی ہو۔ اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ثابت کرو کہ اُن پر انعام کیا ہوا اور انعام وہ چاہئے جو دنیا کے سامنے ایک ثابت شدہ امر ہو عیسائیوں کے کفّارہ کی طرح نہ ہو یعنی صرف اپنا خیال نہ ہو اور اگر مغضوب علیہم میں داخل ہیں تو یہ قرین قیاس ہے کیونکہ قرآن شریف اور توریت سے ثابت ہے کہ طاعون خدا کے غضب کی نشانی ہے اور جو اوّل طبقہ کے مومن اور برگزیدہ ہوتے ہیں اُن کو کبھی طاعون نہیں ہوئی جیسے انبیاء اور صدیق اور کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ اس طبقہ کے لوگوں کو کبھی طاعون ہوئی ہے کیونکہ یہ رجز اللہ جو کفّار اور فاسقین اور گناہ پر اصرار کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے نازل ہوتی ہے اُس میں برگزیدہ لوگ ہر گز ہر گز شریک نہیں کئے جاتے۔ پس جو اپنے تئیں خدا کا ایسا پیارا ٹھہراتا ہے کہ عصائے موسیٰ میں یہ الہام لکھا ہے قل ان کنتم تحبّوناللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ ایسا محبوب طاعون میں کیوں گرفتار ہو گیا۔ یہود کی نسبت