اور کاذب کون ہے اور اس شخص کو ہم (یعنی مجھ کو)پر اگندہ غبار کی طرح کر دیں گے یعنی ہلاک کر دیں گے مگر اے الٰہی بخش تم پر سلامتی ہے تمہارے لئے خدا نے رحمت لکھی ہے تم ہلاکت سے بچوگے * ۔اب سوچنے والے سوچ لیں کہ آخر انجام کیاہوا؟ کیا وہ تباہی جو میری نسبت بابو صاحب کا الہام بتاتا ہے وہ انہیں پر آئی ہے یا نہیں؟
پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں کہ ان کو الہام ہوا یَا نَارُ کُوْنِیْ بَردًا وَّسَلَامًا یعنی اے آگ ٹھندی ہو جا اور سلامتی ہو جا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کونسی آگ اُن پر ٹھنڈی ہو گئی صرف طاعون کی آگ اُن پر نازل ہوئی تھی سو وہ تو ٹھنڈی نہ ہوئی اور اُن کا کام ایک دن میں تمامؔ کر گئی۔ صدہا آدمی لاہور میں طاعون میں مبتلا ہو کر آخر اچھے ہو گئے مگر یہ ملہم صاحب جانبر نہ ہو سکے اور بے وقت موت نے ہزاروں حسرتوں کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کرا دیا۔ اب وہ تو اس جہان کو چھوڑ گئے صرف اُن کے دوستوں کے لئے محض للہ لکھنا پڑا ہے کیونکہ بابو صاحب کی موت کے بعد مجھ کو یہ الہام ہوا تھا فتنّا بعضہم من بعض یعنی ہم نے الٰہی بخش کی موت سے اُن کے دوستوں کا امتحان کرنا چاہا ہے کہ کیا وہ اب بھی سمجھتے ہیں یا نہیں۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ بابو الٰہی بخش صاحب میرے مقابل پر ایک بڑی سختی کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور کوئی دقیقہ انہوں نے تحقیر اور توہین کا اٹھا نہیں رکھا تھا اور لوگوں کو انہوں نے اپنی کتاب سے گمراہ کیا تھا اور ہر روز میری موت اور تباہی کے منتظر تھے اور اپنے دوستوں کو صدہا الہامات اس قسم کے سنایا کرتے تھے اور خاص کر طاعون سے میری موت اپنی کتاب میں شائع کی تھی۔ پھر یہ کیا ہوا کہ وہ خود طاعون سے نامرادی کے ساتھ مر گئے
* یہ خوب بچنا ہے کہ مرے بھی تو طاعون سے مرے۔ بابو صاحب کے دوستو! سچ کہو کہ کیا تمہاری یہی مراد تھی کہ بابو صاحب میری زندگی میں ہی جس کی موت اور تباہی کے منتظر تھے طاعون سے مر جائیں۔ اُن کے صدہا الہاموں سے جو میرے ہلاک ہونے کے بارے میں تھے میرا کیا نقصان ہوا۔ یہ کیا بات ہو گئی کہ اُن کے الہاموں کی بجلی اُنہیں پرگر گئی۔ کیا کوئی ہے کہ اس کا جواب دے؟ منہ