کی طرح اُس کی تائید میں برس رہے ہیں اُن کی بھی پروا نہیں رکھتا۔ کیا ایسے شخص کے لئے بھی کوئی سزا ہے یا نہیں۔ مگر اب ان باتوں کو طول دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب بابو صاحب اپنے مباہلہ اور ملاعنہ کے بعد اس افترا اور بد زبانی کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔ پھر بابو صاحب کا ایک اور الہام ہے جو ان کی کتاب کے صفحہ ۲۲۴ میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ ان یقولون الّا کذبا اتّبع ھواہ وکان امرہ فرطا یعنی جو دعویٰ یہ شخص کرتا ہے اُس کا جھوٹا دعویٰ ہے اور اپنی خواہش نفسانی کے پیچھے چلتا ہے اور وہ حد سے بڑھ گیا ہے یعنی اب اُس کی ہلاکت کے دن آگئے ہیں۔ اس الہام کا جواب بھی پڑھنے والے خود بخود ہی سمجھ لیں۔ مگر ؔ اب بابو صاحب کے حمایتی فرماویں کہ خدا تعالیٰ کا وہ معاملہ جو وہ اپنی قدیم سنت کے موافق جھوٹوں سے کیا کرتا ہے وہ میرے ساتھ اُس نے کیا یا بابو صاحب کے ساتھ؟ بموجب تعلیم قرآن شریف کے جو منجانب اللہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے وہ نامراد رہ کر ہلاک ہوتا ہے سو کیا یہ سچ نہیں کہ یہی انجام بابو صاحب کا ہوا؟ پھر بابو صاحب اپنی کتاب کے صفحہ ۳۱۹ میں میری نسبت یہ الہام لکھتے ہیں سینالھم غضب علٰی غضب جعلتہ کالرمیم۔کالعھن المنفوش یعنی اُس شخص پر غضب پر غضب نازل ہوگا اور میں بوسیدہ ہڈی کی طرح اُس کو کر دوں گا اور اُس روئی کی طرح جو دُھنی جاتی ہے۔ اس الہام کو بھی ناظرین آپ ہی سوچ لیں کہ یہ کس پر صادق آیا۔ پھر صفحہ ۴۳۷ میں میری نسبت یہ الہام ہے ثم اماتہ فاقبرہ یعنی خدا اُس کو مارے گا پھر قبر میں ڈالے گا۔ اور پھر کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۴۴۱ میں بابو صاحب کا یہ الہام میری نسبت ہے یمیزالخبیث من الطیّب جعلناہ ھباءً ا منثورا۔ سلام علیکم کتب علٰی نفسہ الرحمۃ جس کا ظہور انشاء اللہ وقت مقدر پر ہوگا یعنی اللہ تعالیٰ خبیث کو طیب سے جدا کرکے دکھلاوے گا یعنی کوئی ایسا کرشمہ قدرت دکھلائے گا کہ ثابت ہو جائے گا کہ صادق کون ہے