بھی کئی دفعہ مجھے الہام ہوا ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اپنے نشان ان مخالفوں کودکھلاؤں گا وہ مجھ سے جلدی نہ کریں۔ اب ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ یہ تمام الہام اُن کے طاعونی موت نے باطل کر دیئے ہیں۔ کیا ملاح ایسے لوگوں کو کہہ سکتے ہیں کہ جو آپ ہی غرق ہو جائیں جس حالت میں دوسروں کو غرق کرنے کا وعدہ تھا جو اُن کے مخالف ہیں یعنی یہی عاجز تو پھر یہ کیسے ملاح اور کیسی اُن کی کشتی تھی اور یہ کس قسم کا الہام تھا جواُلٹا انہیں پر وارد ہو گیا۔ پھر بابو صاحب اپنی کتاب کے صفحہ ۱۸۶ میں لکھتے ہیں جس خدمت پر مرزا صاحب فخرو ناز فرماتے ہیں اُس کی کیفیت تو الہام قل ھل اُنبّئکم بالاخسرین اعمالًا میں گذر چکی ہے۔ یعنیؔ اُن کے تمام اعمال باطل اور ٹوٹے میں پڑے ہوئے ہیں اور صفحہ ۲۰۱ میں میری نسبت فرماتے ہیں کہ میرزا صاحب جلدی نہ فرماویں امید واثق اور یقین کامل ہے کہ سُنت اللہ کے موافق سرکش متمرد ہمچو من دگرے نیست کہنے والے کو انشاء اللہ ضرور ناکامی اور شکست ہوگی۔ اب ناظرین اس کا جواب دیں کہ یہ کلمہ تو منشی صاحب کا میری نسبت تھا مگرکیا خُدا نے اُن کے قول کے موافق مجھے ناکامی اور شکست کی حالت میں موت دی یا بابو الٰہی بخش صاحب کو۔ میں اس سے زیادہ کہنا نہیں چاہتا کیونکہ اب وہ دُنیا سے گذر چکے ہیں * ۔ پھر صفحہ ۲۰۲ میں منشی الٰہی بخش صاحب لکھتے ہیں۔ بلعم نے اوّل بد دعا کرنے سے انکار کیا۔ پھر اُس کی قوم نے ہدیہ دے کر اُس کو فتنہ میں ڈالا۔ غرض اِس کی ہلاکت کے یہی اسباب تھے۔ پھر جس شخص کے حالات بلعم کے حالات سے مشابہ ہیں جو حقوق تلف کرتا اور جھوٹے دعوے کرتا ہے اس شخص کے لئے یہ قصہ قابلِ عبرت ہے۔ یہ خلاصہ ہے اُن کی تقریر کا مگر افسوس کہ بابو صاحب کو اس طرف توجہ نہ ہوئی کہ جو شخص بغیر کامل تحقیق کے اعتراض کرتا ہے اور ایسے شخص کو جو خدا کے نزدیک معذور اور بَری ہے (جس نے درحقیقت کوئی حق تلفی نہیں کی اور نہ کوئی جھوٹا دعویٰ کیا) بغیر کسی ثبوتِ کامل کے مُفتری قرار دیتا ہے اور دجّال ٹھہراتا ہے اور خدا کے نشان جو بارش * بعض نادان میرا ذکر کرکے کہتے ہیں کہ اگر الٰہی بخش نامراد مر گیا تو آپ کی مرادیں کب پوری ہو گئی ہیں۔ لیکن نہیں سوچتے کہ میں تو اب تک زندہ ہوں اور میری مُرادیں دن بدن پوری ہو رہی ہیں لیکن بابو صاحب تو فوت ہو چکے ہیں اور ان کا عصائے موسیٰ ٹوٹ کر انہیں پر پڑا۔ منہ