میں اس حد تک کوشش کرے کہ اُس کی اطاعت میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ یہ بہت تنگ دروازہ ہے اور یہ شربت بہت ہی تلخ شربت ہے۔ تھوڑے لوگ ہیں جو اس دروازہ میں سے داخل ہوتے اور اس شربت کو پیتے ہیں۔ زنا سے بچنا کوئی بڑی بات نہیں اور کسی کو ناحق قتل نہ کرنا بڑا کام نہیں اور جھوٹی گواہی نہ دینا کوئی بڑا ہُنر نہیں۔ مگر ہر ایک چیز پر خدا کو اختیار کر لینا اور اس کے لئے سچی محبت اور سچے جوش سے دنیا کی تمام تلخیوں کو اختیار کرنا بلکہ اپنے ہاتھ سے تلخیاں پیدا کر لینا یہ وہ مرتبہ ہے کہ بجز صدیقوں کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ عبادت ہے جس کے ادا کرنے کے لئے انسان مامور ہے اورؔ جو شخص یہ عبادت بجا لاتا ہے تب تو اُس کے اِس فعل پر خدا کی طرف سے بھی ایک فعل مترتب ہوتا ہے جس کا نام انعام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی یہ دعا سکھلاتا ہے 3۔3 3 ۱؂ یعنی اے ہمارے خدا ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا اُن لوگوں کی راہ جن پر تونے انعام کیا ہے اور اپنی خاص عنایات سے مخصوص فرمایا ہے۔ حضرت احدیت میں یہ قاعدہ ہے کہ جب خدمت مقبول ہو جاتی ہے تو اُس پر ضرور کوئی انعام مترتب ہوتا ہے چنانچہ خوارق اور نشان جن کی دوسرے لوگ نظیرپیش نہیں کر سکتے یہ بھی خدا تعالیٰ کے انعام ہیں جو خاص بندوں پر ہوتے ہیں۔ اے گرفتارِ ہوا در ہمہ اوقاتِ حیٰوۃ باچنیں نفس سیہ چوں رسدت زو عَونے گر تو آن صدق بورزی کہ بورزید کلیم عجبے نیست اگر غرق شود فرعونے اب خلاصہ اس تمام کلام کا یہ ہے کہ کسی کو بجُز درجہ ثالثہ کے پاک اور مطہر وحی کا انعام نہیں مل سکتا اور اس انعام کو پانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ہستی سے مر جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے ایک نئی زندگی پاتے ہیں اور اپنے نفس کے تمام تعلقات توڑ کر خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔ تب اُن کا وجود مظہر تجلّیاتِ الٰہیہ ہو جاتا ہے اور خدا اُن سے محبت کرتا ہے اور وہ ہزار اپنے تئیں پوشیدہ کریں مگر خدا تعالیٰ اُن کو ظاہر کرنا چاہتا ہے اور وہ نشان اُن سے ظاہر ہوتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے۔