3۱؂ یعنی ایسا کوئی اہل کتاب نہیں جواپنی موت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت عیسیٰ پر ایمان نہ لاوے۔ اور تفاسیر میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کو یہ الہام اُس وقت ہوتا ہے جب وہ جان کندن کی حالت میں ہوتے ہیںیا موت کاوؔ قت بہت قریب ہوتا ہے اور اب ظاہر ہے کہ وہ تبھی ایمان لاتے ہیں جب اُن کو منجانب اللہ الہام ہوتا ہے کہ فلاں رسول سچا ہے مگر اس الہام سے وہ خدا کے برگزیدہ نہیں ٹھہر سکتے اور خدا تعالیٰ کی سنت اسی طرح جاری ہے کہ موت کے قریب اکثر لوگوں کو کوئی خواب یا الہام ہو جاتا ہے۔ اس میں کسی مذہب کی خصوصیت نہیں اور نہ صالح اور نیکو کار ہونے کی شرط ہے۔ پھر بابو الٰہی بخش صاحب اپنی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۱۸۰ میں لکھتے ہیں کہ کشتی کا ملاح بننے کا الہام بھی عاجز کو ہوتا ہے اور کشتی کی تیاری کا حکم بھی الہاماً ہو کر پھر الہام ہوا۔ بِسْم اللّٰہ مجریھا و مُرساھَا ان ربّی لغفور رحیم پھر الہام ہوا۔ انّ الذین ظلموا ان ہم لمغرقون جس کے ظہور کی قادر کے فضل و کرم سے امید واثق* ہے۔ یہ بھی الہام بہت دفعہ ہوا ہے۔ ساُریھم اٰیاتی فلا تستعجلون۔ اس الہام کے یہ معنی ہیں کہ وہی ملاح ہیں جوپار اُتاریں گے اور اُن کی کشتی میں بیٹھنے والے نجات پائیں گے۔ پھر میری طرف اشارہ کرکے فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس کشتی میں سوار نہیں ہوئے یعنی یہ عاجز وہ ظالم ہیں اور وہ غرق کئے جائیں گے۔ اور فرماتے ہیں کہ یہ * ایک طرف تو بابو الٰہی بخش صاحب لکھتے ہیں کہ میں اپنے الہامات کو یقینی نہیں سمجھتا ممکن ہے کہ شیطانی ہوں پھر ایسے الہاموں پر امید واثق بھی ہے تعجب کہ اسی مایہ کے ساتھ حد سے بڑھ کر درندگی اختیار کی اور تعجب کہ دوسروں کے غرق کرنے کے لئے تو الہام ہو امگر آپ ہی اس الہام کے مصداق ہو گئے اور بابو صاحب کا یہ الہام کہ عنقریب میں اپنے نشان دکھلاؤں گا مجھ سے جلدی مت کرو۔ سو ہم جانتے ہیں کہ یہ الہام بابو صاحب کی موت سے پورا ہو گیا گو اُن کی موت اُن کے لئے نشان نہیں مگر ہمارے لئے نشان ہے۔ منہ