تباہی اور ہلاکت میرے ہی نصیب ہوگی اور وہ اپنی تمام مرادوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کیا یہ الہام سچا نکلا؟ اور کیا اس مباہلہ کا نتیجہ ان کے حق میں ہوا یا میرے حق میں۔ اور ملاعنہ کا بد اثر میری طرف رد کیا گیا یا اُن کی طرف۔برائے خدا ناظرین اس مقام میںؔ کچھ غور کریں تا خدا اُن کو جزائے خیر دے ورنہ خدا تعالیٰ اپنی تائیدات اور اپنے نشانوں کو ابھی ختم نہیں کر چکا۔ اور اُسی کی ذات کی مجھے قسم ہے کہ وہ بس نہیں کرے گا جب تک میری سچائی دنیا پر ظاہر نہ کر دے۔ پس اے تمام لوگو! جو میری آواز سنتے ہو۔ خدا کا خوف کرو اور حد سے مت بڑھو۔ اگر یہ منصوبہ انسان کا ہوتا تو خدا مجھے ہلاک کر دیتا اور اس تمام کاروبار کا نام و نشان نہ رہتا۔ مگر تم نے دیکھا کہ کیسی خدا تعالیٰ کی نصرت میرے شامل حال ہو رہی ہے اور اس قدر نشان نازل ہوئے جو شمار سے خارج ہیں۔ دیکھو کس قدر دشمن ہیں جو میرے ساتھ مباہلہ کرکے ہلاک ہو گئے۔ اے بندگانِ خداکچھ تو سوچو کیا خداتعالیٰ جھوٹوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے؟
بعض نادان کہتے ہیں کہ آتھم اپنی میعاد میں نہیں مرا لیکن وہ جانتے ہیں کہ مر تو گیا اور میں اب تک زندہ ہوں اور وعید کی پیشگوئیاں جن میں کسی پر عذاب کے نازل ہونے کا وعدہ ہوتا ہے اُن کا میعاد کے اندر پورا ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر شخص مُنْذَربِہٖ توبہ کرے یا رجوع کرے تو اُن کا پورا ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا اور ایسی پیشگوئیاں یعنی عذاب کی پیشگوئیاں تضرع اور توبہ اور صدقہ اور خیرات سے ٹل بھی سکتی ہیں اور ٹلتی رہی ہیں اور اس امر کا گواہ قرآن کریم اور پہلی کتابیں ہیں۔ اور یاد رہے کہ وعید کی پیشگوئی سے مراد عذاب کی پیشگوئی ہے۔ اور جب خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی کی شامتِ اعمال سے خدا تعالیٰ اُس پر کوئی بلانازل کرتا ہے تو عادۃ اللہ اسی طرح پر ہے کہ اس بلا کو توبہ اور استغفار اور صدقہ خیرات سے اکثر رد کردیتا ہے اور جب کوئی بلا میں گرفتار ہو کر خداتعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اکثر اس پر رحم کیا جاتا ہے جس طرح کہ یونسؑ نبی کے قوم کی بلا ٹال دی گئی۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ توبہ اور استغفار اور صدقہ اور خیرات سے بلا ٹل سکتی ہے اور وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی کی حقیقت بجز اس کے کیا ہے کہ وہ بھی ایک بلا ہوتی ہے کہ کسی مامور من اللہ کے ذریعہ سے اس کی اطلاع دی جاتی ہے۔