پھر اگر یہ بات سچ ہے کہ بلا توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات سے ٹل سکتی ہے تو پھر ایسی پیشگوئی کیوں نہیں ٹل سکتی جس کی خبر کسی مامور من اللہ کے ذریعہ سے دی گئی ہو اور علاوہ اس کے دشمن نادان نہیں جانتے کہ اگرچہ عذاب کی پیشگوئیوں میں کسی شرط کی ضرورت نہیں ہوتی وہ محض توبہ اور استغفاؔ ر سے ٹل سکتی ہیں مگر تاہم آتھم اور احمد بیگ اور اُس کے داماد کی نسبت شرطی پیشگوئیاں تھیں یعنی یہ لکھا گیا تھا کہ اِس شرط سے بلا وارد ہوگی کہ وہ لوگ سر کشی پر قائم رہیں اور رجوع نہ کریں۔ سوآتھم نے اپنی خاموشی اور نہ قسم کھانے اور نہ نالش کرنے اور اسلام پر کوئی حرف زنی نہ کرنے سے ثابت کر دیا کہ اُس نے سر کشی کی خصلت کو چھوڑ دیا ہے اور نیز اُس نے ساٹھ یا ستر۷۰ آدمیوں کے رو برو عین مباحثہ کے وقت میں زبان نکال کر اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر اپنے رجوع کا اقرار کر دیاجس سے کوئی منکر نہیں ہو سکتا۔ اور اُس وقت حاضرین نہ صرف مسلمان تھے بلکہ نصف کے قریب عیسائی تھے اور معتبر شہادتوں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ پندر ۱۵ہمہینہ تک روتا رہا تو کیا اب تک رجوع اُس کا ثابت نہ ہوا؟
اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت اِس قدر بیان کرنا کافی ہے کہ وہ پیشگوئی دو شاخیں رکھتی تھی۔ ایک شاخ احمد بیگ کے متعلق تھی اور دوسری شاخ اُس کے داماد کے متعلق تھی۔ سو احمد بیگ اور اُس کے مرنے کا صدمہ اُس کے اقارب کا غرور اور تکبر توڑ گیا اور وہ میعاد کے اندر مر گیا۔ بیگانوں اور ناواقفوں کو کیا خبر ہے کہ اُس کی موت کی وجہ سے اُس کے دو سرے عزیزوں پر کیا مصیبت آئی۔ اور اس مصیبت نے ان کوکیا سبق دیا اور کس غم نے اُن کو گھیر لیا۔ آخر یہ نتیجہ ہوا کہ مرزا محمود بیگ جن کے گھر میں یہ رشتہ ہوا تھا اور جو تمام خاندان کا سرگروہ تھا ہمارے سلسلہ بیعت میں داخل ہو گیا۔ اب اگر ان تمام باتوں کو سُن کر بھی کوئی بکواس سے باز نہ آئے تو اُس کا علاج ہم کیا کریں۔ ایسے سیاہ دل کو جو حیا اور شرم سے دست بردار ہے ہم کس طرح قائل کر سکتے ہیں اور اس کے تعصّب کی بیماری کاکیا علاج کر سکتے ہیں بجز اس کے کہ خدا ہی اس کا علاج کرے۔
کیا تضرع اورتوبہ سے نہیں ٹلتا عذاب
کس کی یہ تعلیم ہے دکھلاؤ تم مجھ کو شتاب