بابوؔ صاحب میری زندگی میں ہی طاعون کے ساتھ ہلاک ہو گئے بلکہ اپنی ہر ایک خواہش اور ارادہ سے نامراد رہ کر اس دنیا سے گذر گئے۔ اور دوسری طرف ہر ایک پہلو سے خدا نے مجھے برومند کیا چنانچہ ہزارہا شکر کا یہ مقام ہے کہ قریباً چار لاکھ انسان اب تک میرے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے اور کفر سے توبہ کر چکے ہیں اور خدا نے مجھے وہ عزت دی ہے کہ تمام دنیا میں یعنی یورپ اور ایشیا اور امریکہ میں اقبال مندی کے ساتھ مجھے مشہور کر دیا۔ چنانچہ وہ ڈاکٹر ڈوئی جو امریکہ اور یورپ کی نگاہوں میں بادشاہوں کی طرح اپنی شوکت اور شان رکھتا تھا اُس کو خدا نے میرے مباہلہ اور میری دعا سے ہلاک کیا اور ایک دنیا کو میری طرف جھکا دیا۔ اور یہ واقعہ دنیا کے تمام نامی اخباروں میں شہرت پاکر ایک عالمگیر شہرت کے رنگ میں زبان زدِ عوام و خواص ہو گیا اور میں دیکھتا ہوں کہ جن لوگوں نے میرے ساتھ بیعت کی ہزاروں اُن میں متقی ہو گئے اور ایک نمایاں تبدیلی اُن کے اعمال میں پیدا ہو گئی اور خدا نے دنیا کی حیثیت سے وہ برکتیں مجھ کو عطا کیں کہ خدا کے بندوں نے آج تک کئی لاکھ روپیہ اور انواع اقسام کے تحائف انکسار اور تواضع کے ساتھ مجھ کو دئے* اور دے رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی انواع اقسام کی رحمتوں کا ایک دریا جاری ہو رہا ہے اور علاوہ اس کے ہزار ہا نشان خداتعالیٰ نے میری تائید میں ظاہر کئے ہیں اور کوئی مہینہ کم گذرتا ہوگا جو کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور خدا نے خود دشمنوں کے مقابلہ پر تلوار کھینچ کرمیرے لئے اُن کا مقابلہ کیا جس نے میرے پر مقدمہ کسی عدالت میں کیا آخر کار شکست اور ذلت اُس کو نصیب ہوئی۔ اور جس نے میرے ساتھ مباہلہ کیا آخر کار وہ خود ہلاک ہوا یا ذلیل کیا گیا۔ چنانچہ یہ تائیدات الٰہیہ اِسی کتاب حقیقۃ الوحی میں بطور نمونہ بیان کی گئی ہیں۔ اب مجھ کو اہل انصاف بتلاویں کہ بابو الٰہی بخش صاحب کا یہ الہام کہ میرے اور اُن کے باہم *** کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک * جیسا کہ چھبیس ۲۶برس سے یہ پیشگوئی ہے کہ یاتیک من کلِّ فجٍّ عمیق۔ یاتون من کلِّ فجٍّ عمیق۔ ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء ولا تصعّر لخلق اللّٰہ ولا تسئم من الناس پس عجیب فضل الٰہی ہے کہ ایک طرف تو وہ پُرانے زمانہ کی پیشگوئی پوری ہوئی اور دوسری طرف لاکھوں روپیہ کی آمدنی ہوئی اور کئی لاکھ انسان مُرید ہو گئے۔ منہ