ردّ کیا جائے گا اور متقیوں کے لئے بہشت نزدیک ہے۔ اس الہام کا ماحصل یہ ہے کہ بابو الٰہی بخش صاحب متقی ہیں اور میں کافر ہوں اور جو میرا اُن کے ساتھ باہم *** اللّٰہ علی الکاذبین یعنی مباہلہ ہوا تھا وہ *** بموجب اُن کے الہام کے میرے پر پڑے گی اور وہ ہر ایک بات میں کامیاب ہو جائیں گے۔
واضح ہو کہ لِعان کہتے ہیں عربی زبان میں ملاعنہ کو۔ لسان العرب میں لکھا ہے اللّعان والملاعنۃ: اللّعن بین اثنین فصاعدًا۔ یعنی لعان اور ملاعنہ جو دو لفظ ہیں ان دونوں کے معنی یہ ہیں کہ دو آدمی یا اُن سے زیادہ ایک دوسرے پر *** بھیجیں۔ پھر اسی کتاب لسان العرب میں لعن کے یہ معنی لکھے ہیں کہ۔ اللَّعن اَلابعاد والطردمن الخیر یعنی *** کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک نیکی اور مال اور برکت اور بہتری سے کسی کو محروم کیا جائے۔ پھر دوسرے معنی *** کے یہ لکھے ہیں کہ الا بعاد من اللّٰہ ومن الخلق یعنی *** کے یہ معنی ہیں کہ جناب الٰہی سے مردود ہو جاوے اور قبولیت سے محروم رہے۔ اور مخلوق کی نظر سے بھی گر جاوے اور عزت اور وجاہت بھی جاتی رہے۔ غرض خدا کے نزدیک *** کا لفظ تمام نامرادیوں اور مردود اورمخذول ہونے کے معنوں پر محیط ہے اور ہر ایک نوع کی برکت سے محروم اور مخذول اور مردود رہنا اس کے لوازم میں سے ہے اور جس شخص پر خدا کی *** وارد ہو جائے اُس کا ثمرہ ہلاکت اور تباہی ہے اِسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نجران کے عیسائی مجھ سے مباہلہ کرتے (جو *** اللّٰہ علٰی الکاذبین کے ساتھ کیا جاتا ہے) تو اس قدر موت اور ہلاکت اُن پر آتی کہ اُن کے درختوں کے پرندے بھی مر جاتے۔
اب بابو الٰہی بخش صاحب کے الہام کا مطلب جس میں ملاعنہ کاذکر ہے ہر ایک منصف مزاج سمجھ سکتاہے کیونکہ الہام کایہ مطلب ہے کہ وہ ملاعنہ جو مجھ میں اور بابو صاحب میں واقع ہوا تھاجس کا ذکر کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۲ اور صفحہ ۷ میں بھی ہے اور کتاب مذکور کے دوسرے مقام میں بھی مذکور ہے اس کا بد اثر میرے پر ہی پڑے گا اور میں اُن کی زندگی میں ہلاک اور تباہ ہو جاؤں گا حالانکہ خدا تعالیٰ کے ارادہ نے اس کے برخلاف ظاہرکیا۔ اور نہ صرف یہ ہواکہ