بعدؔ فوت ہو گئے۔ اب منصفین خود سمجھ سکتے ہیں کہ کیا طول حیات اور طول بقا کے یہی معنی ہیں کہ صرف چھ ۶ برس میں قبل اس کے کہ وہ اپنی کسی کامیابی کو دیکھیں مرض طاعون سے اُن کا خاتمہ ہو جائے اور بڑی حسرت کے ساتھ میری زندگی میں ہی نامراد مریں۔ ہم اس وقت اُن کے بارے میں محض اُن کے دوستوں کی رائے پوچھتے ہیں اور ہم باد ب عرض کرتے ہیں کہ کیایہ صحیح ہے کہ جیسا کہ انہوں نے اپنے الہام کی رو سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جو خدمت مجھ کو سپرد ہوئی ہے جب تک پوری نہ ہو میں ہر گز نہ مروں گا ۔ کیا وہ خدمت پوری ہوگئی ہے ؟ کیا ان کی کوششوں اور ان کی تہمتوں سے جو تمام کتاب عصائے موسیٰ میں میرے پر لگائی گئیں میرا ایک بال بھی بیکا ہو گیا ہے؟ اور ناظرین اس کی بھی ہمیں اجازت دیں کہ وہ الہام جو میری نسبت بابو الٰہی بخش صاحب نے کیا تھا کہ سنسمہ علی الخرطوم کیا یہ سچ نہیں کہ وہ اُلٹ کر اُنہیں پر پڑ گیا اور قدرت کے ہاتھ نے ایسے طور پر اُن کی خرطوم پر طاعونی آگ کا داغ لگایا کہ اُن کا خاتمہ ہی کر دیا اور مَارَمَیْتَکا تیر جو اُنہوں نے میری طرف بقول اپنے الہام کے چلایا تھا آخر وہ انہیں کو لگ گیا
الٰہی بخش کے کیسے تھے یہ تیر
کہ آخرہو گیا اُن کا وہ نخچیر
اُسی پر اُس کی *** کی پڑی مار
کوئی ہم کو تو سمجھاوے یہ اسرار
تکبر سے نہیں ملتا وہ دلدار
ملے جو خاک سے اُس کو ملے یار
کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے
کرے پاک آپ کوتب اُس کو پاوے
پسند آتی ہے اُس کو خاکساری
تذلّل ہی رہِ درگاہ باری
عجب ناداں ہے وہ مغرور و گمراہ
کہ اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ
بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے
مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے
اور پھر کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۱۵۲ میں بابو الٰہی بخش صاحب میری نسبت یہ الہام شائع کرتے ہیں فیمت وھوکافر۔رُدّت الیہ لعانہ۔ واُزلفت الجنۃ للمتّقین۔یہ ہفتم رمضان ۱۳۱۷ھ کا واقعہ ہے (ترجمہ) یہ شخص کافر مرے گا۔ اور اس کا میرے ساتھ باہم *** کرنا یعنی مُباہلہ کرنا اُسی کی طرف اُس کا بد اثر