منشی عبد الحق صاحب خدا سے ڈر کر گواہی دے سکتے ہیں کہ آخر کس شخص پر طاعون نازل ہوئی۔
پھر ایک اور الہام اُن کا میرے پر عذاب نازل ہونے کے بارہ میں ہے جو اُس کی کتاب کے صفحہ ۸۳ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے سنسمہ علی الخرطرم۔ ما رمیت اذرمیت ولٰکن اللّٰہ رمٰی۔ (ترجمہ) اِس مفتری کو یعنی اس مفتری کی ناک پر یا منہ پر ہم آگ کا داغ لگائیں گے یعنی اس کو طاعون سے ہلاک کریں گے یا یہ کہ جہنم کی آگ میں ڈالیں گے۔ یہ تیر جو تونے (اے الٰہی بخش) چلایا یہ تونے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔‘‘ پھر صفحہ ۹ سطر ۱۳ میں یہ الہام لکھا ہے۔ متّع المسلمین بطول حیاتک وبطول بقائک۔ ینفع المسلمین بطول حیاتک وبطول بقائک۔*... پھر بعد اس کے یہ عبارت ہے اور جو خدمت مجھ
کو سپرد ہوئی ہے جب تک پوری نہ ہو تب تک میں ہر گز نہ مروں گا۔ بابو الٰہی بخش صاحب کی کتاب عصائے موسیٰ کے دیکھنے کے بعد معلوم ہوگا کہ وہ اُس کتاب کی تالیف سے چھ۶ برس
* حاشیہ ۔ اگر کوئی یہ شک کرے کہ یہ تمام الہامات جو عصائے موسیٰ میں بابو الٰہی بخش نے لکھے ہیں کس طرح معلوم ہو کہ وہ اس راقم کے لئے لکھے گئے ہیں تو واضح ہو کہ بابو الٰہی بخش نے یہ کتاب عصائے موسیٰ خاص میرے پر مخالفانہ حملہ کرنے کی غرض سے تالیف کی ہے اور بجز میری تکذیب اور توہین کے اس کتاب کی تالیف کی اور کوئی غرض نہ تھی اور بابو صاحب ہمیشہ پوشیدہ طور پر میری نسبت اپنے دوستوں میں ایسے ایسے الہام مشہور کرتے تھے جن کا خلاصہ یہ تھا کہ گویا میں کاذب اور کافر اور فرعون ہوں اور وہ موسیٰ ہیں اور میں جلد تر اُن کے ذریعہ سے اور اُن کے الہام کی رو سے خدا کے عذاب میں گرفتار ہو جاؤں گا اور اِس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جیسا کہ کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۲و ۴ و۶و۷و۸و۹ میں درج ہے بابو الٰہی بخش کے ساتھ اُن کے مخالفانہ الہامات کے بارہ میں میری خط و کتابت ہوئی تھی اور عصائے موسیٰ کے صفحہ ۲ کے خط میں مَیں نے بابو صاحب سے درخواست کی تھی کہ جس قدر آپ میری نسبت تکذیب کے الہام مشہور کرتے ہیں اور محض زبانی طور پر اپنے دوستوں کو سناتے ہیں وہ قسم کھا کر شائع کر دیں تا اگر آپ کے وہ الہام جھوٹ اور افترا ہیں تو خدا تعالیٰ جھوٹ کی پاداش دے۔ اس خط کا جواب انہوں نے وہ دیاکہ جو اُن کی کتاب کے صفحہ ۴ میں درج ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قسم کھانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ اگر میں نے خدا پر افترا کیا ہے تو وہ بغیر قسم بھی مجھے سزا دے گا اور میں الہامات شائع کر دوں گا۔ پھر اس کے جواب میں صفحہ ۷ میں میری طرف سے یہ عبارت ہے۔ مَیں صرف خدا سے عقدہ کشائی چاہوں گا تا وہ لوگ جو مجھے مسرف کذّاب کا نام دیتے ہیں اور وہ لوگ جو مجھے مسیح موعود مانتے ہیں۔ اُن میں اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کرے ۔ منہ
*ترجمہ۔ خُدا تعالیٰ تیری عمر کو لمبی کرکے اور دنیا میں ایک زمانہ دراز تک تجھے رکھ کر تیری بہت لمبی عمر سے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچائے گا۔ مگر اس کے بعد بابو الٰہی بخش صرف چھ ۶برس تک زندہ رہے۔ یہ ہے لمبی عمر کا الہام۔ منہ