پڑجاؔ ئیں اور اُس کی نظیر نہ پیش کر سکیں اور یا اِس کثرت سے وہ نشان ہوں کہ کثرت کے لحاظ سے کسی کو طاقت نہ ہو کہ وہ کثرت اپنے نشانوں میں یا کسی اور مفتری کے نشانوں میں دکھلا سکے اِسی کا نام خدا کی شہادت ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ جلّ شانہٗ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرماتاہے 33 ۱؂ یعنی جولوگ کہتے ہیں کہ تو خدا کا رسول نہیں۔ اُن کو کہہ دے کہ تم میں اور مجھ میں خدا گواہ کافی ہے اور نیز وہ جس کو کتاب کا علم ہے۔ اب ہم باقی الہام الٰہی بخش کے جو اُس کی کتاب عصائے موسیٰ میں میری نسبت درج ہیں اس جگہ ناظرین کے غور اور انصاف کے لئے درج کر دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب کے صفحہ ۷۹ میں میری نسبت یہ الہام لکھتا ہے۔ ’’اُڑ جائیں گے زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو‘‘ یعنی ہزار ہا مخالف جو اُن کی ہلاکت کے خواہشمند ہیں ایسا ہی ہو جائے گا۔ پھر صفحہ ۸۰ کتاب مذکور میں لکھتا ہے ’’اَللّٰھُمَّ افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ۔‘‘ اور اس کو بھی میری نسبت ہی قرار دیتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ اے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا سچافیصلہ کر۔ سو الحمدللہ وہ فیصلہ ۷؍اپریل ۱۹۰۷ء کو ہو گیا اور میاں الٰہی بخش مجھے ہزاروں گالیاں نکال کر اور کذّاب اورمُفسد اور دجّال اور مفتری کہہ کر اور میری نسبت غضب الٰہی اور طاعون کے وعدے دے کر خود تاریخ مذکور میں صرف ایک ہی دن میں اس ناپائیدار دنیا کو چھوڑ گیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔ دیکھو ہماری فرعونیت آخر غالب آگئی موسیٰ کو طاعون نے ایسا دبا یا کہ نہ چھوڑا جب تک اُس کی جان نہ نکال لی۔ پھر بابو الٰہی بخش اسی کتاب کے صفحہ اسی۸۰ میں اپنے الہام میں مجھے طاعون کی دھمکی دیتا ہے جیسا کہ الہام یہ ہے ’’رجزًا مّن السّماء علی القریۃ التی کانت حاضرۃ... ولھم عذاب الیم۔ ولا یزید الظالمین اِلَّا تبارًا۔‘‘ یعنی طاعون نازل ہوگی اور وہ مع اپنیؔ جماعت کے طاعون میں مبتلا ہو جائے گا اور خدا ان ظالموں پر ہلاکت نازل کرے گا۔ یہ ہیں الہامات الٰہی بخش جن سے وہ اپنے چند دوستوں کو خوش کرتا تھا۔ مگر اب اُن کے دوست خاص کر