عزیز خدا کا نام ہے وہ اپنی عزّت کسی کو نہیں دیتا مگر اُنہیں کو جو اُس کی محبت میں کھوئے گئے ہیں۔ ظاہر خدا کا نام ہے وہ اپنا ظہور کسی کو نہیں بخشتا مگر اُنہیں کو جو اُس کے لئے بمنزلہ اُس کی توحید اور تفرید کے ہیں اور ایسے اُس کی دوستی میں محو ہوئے ہیں جو اَبْ بمنزلہ اُس کی صفات کے ہیں۔ وہ ان کو نور دیتا ہے اپنے نور میں سے اور علم دیتا ہے اپنے علم میں سے تب وہ اپنے سارے دل اور ساری جان اور ساری محبت سے اُس یاریگانہ کی پرستش کرتے ہیں اور اُس کی رضا کو ایسا چاہتے ہیں جیسا کہ وہ خود چاہتا ہے۔ انسان خدا کی پرستش کا دعویٰ کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیرنے والے پرستارِ الٰہی کہلا سکتے ہیں بلکہ پرستش اُس سے ہوسکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اؔ س کا اپنا وجود درمیان سے اُٹھ جائے اوّل خداکی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حُسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اُس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزشِ محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اُس کی ہستی کے آگے مُردہ متصّور ہو اور ہر ایک خوف اُسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اُسی کی درد میں لذّت ہو اور اُسی کی خلوت میں راحت ہو اور اُس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔ اگر ایسی حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے مگر یہ حالت بجُز خدا تعالیٰ کی خاص مدد کے کیونکر پیدا ہو۔ اِسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی 3 ۱؂ یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے ہیں مگر کہاں حقِّ پرستش ادا کر سکتے ہیں جب تک تیری طرف سے خاص مدد نہ ہو۔ خدا کو اپنا حقیقی محبوب قرار دے کر اس کی پرستش کرنا یہی ولایت ہے جس سے آگے کوئی درجہ نہیں مگر یہ درجہ بغیر اس کی مدد کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اُس کے حاصل ہونے کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بیٹھ جائے خدا کی محبت دل میں بیٹھ جائے اور دل اُسی پر توکّل کرے اور اُسی کو پسند کرے اور ہر ایک چیز پر اُسی کو اختیار کرے اور اپنی زندگی کا مقصد اُسی کی یاد کو سمجھے اور اگر ابراہیم کی طرح اپنے ہاتھ سے اپنی عزیز اولاد کے ذبح کرنے کا حُکم ہو یا اپنے تئیں آگ میں ڈالنے کے لئے اشارہ ہو تو ایسے سخت احکام کو بھی محبت کے جوش سے بجا لائے اور رضاجوئی اپنے آقائے کریم