کلماؔ ت کو خدا کا کلام سمجھ لے بلکہ خدا کے قول کے ساتھ خدا کے فعل کی شہادت ضروری ہے اور شہادت بھی زبردست شہادت درکار ہے کیونکہ یہ دعویٰ کہ خدا مجھ سے مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے یہ کچھ چھوٹا سا دعویٰ نہیں اور اگر مُدعی اس دعویٰ کا خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو تو ایک دنیا اُس کے ذریعہ سے ہلاک ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کے قولی دعویٰ کے لئے خدا تعالیٰ کی ایسی فعلی شہادت درکار ہے جس کووہ قدیم سے اپنے تمام صادق رسولوں اور نبیوں کی تائید میں ادا کرتا رہا ہے۔ اور اس خفیف اور ناچیز امر کو خدا کی فعلی شہادت قرار نہیں دے سکتے جو معمولی انسانوں کی سوانح سے ملتا جلتا ہو۔ مثلاً کوئی خواب میں دیکھتا ہے کہ میرے گھر میں یا کسی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوگا اور اتفاقاً لڑکا ہی پیدا ہو جاتا ہے۔ یا دیکھتا ہے کہ فلاں شخص مر جائے گا اور اتفاقاً وہ مر ہی جاتا ہے یا دیکھتا ہے کہ فلاں شخص فلاں کام میں نامراد رہے گا اور اتفاقاً وہ نامراد ہی رہ جاتا ہے۔ ایسے خوابوں میں تمام دنیا شریک ہے بلکہ کافروں اور مُشرکوں کو بھی اس سے حصہ ہے۔ پس اگر معمولی رنگ میں کسی شخص کو ایسی خواب آوے اور وہ خواب یا وہ الہام کیفیت یا کمیت میں کوئی خصوصیت نہ رکھتاہو تو وہ اِس بات پر دلیل نہیں ہو سکتی کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے بلکہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ایسی خوابیں فاسقوں اور فاجروں کو بھی آسکتی ہیں پس ایسی خوابوں اور ایسے الہاموں پر مغرور نہیں ہونا چاہئیے بلکہ اپنے لئے اِس کو ابتلا سمجھنا چاہئیے۔ اور سچے مامور کے لئے یہ شرط ہے کہ ایسے امور جو خدا کا نشان کہلا سکتے ہیں کیفیت اور کمیت میں اس حد تک پہنچ گئے ہوں کہ عام لوگوں میں سے کوئی شخص اُس کا مقابلہ نہ کر سکے اور ایسے شخص کے ساتھ کھلے کھلے طور پر خدا تعالیٰ کا ہاتھ چلتا نظر آوے اور اُس کی فوق العادت تائید میں نشانات بارش کی طرح برستے ہوئے محسوس ہوں جن سے معلوم ہو کہ خصوصیت کے ساتھ ہر ایک راہ میں خدا اُس کا مؤ یّد ہے۔ غرض بڑی علامت یہی ہے کہ وہ آسمانی نشان اور وہ تائید اور نُصرت اِس حد تک پہنچ جائے کہ روئے زمین پر کوئی اُس کا مقابلہ نہ کر سکے اور گو ایک ہی نشان ہو مگر ایسا زبردست اور ذِی شان ہو کہ اس کو دیکھ کر سب دشمن مُردہ کی طرح