باب ؔ اوّل اِس بات کے بیان میں کہ الٰہی بخش کے وہ تمام الہامات جو میرے مقابل پر اس نے شائع کئے تھے (اپنی نسبت یا میری نسبت) وہ سب کے سب جھوٹے نکلے۔ یہ تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ بابو الٰہی بخش نے اپنا نام موسیٰ رکھا تھا اور مجھ کو فرعون قرار دیا تھا اور میرے مقابل پر اپنی کتاب کا نام عصائے موسیٰ رکھا تھا گویا دل میں یہ سوچا تھا کہ اس عصا کے ساتھ اس فرعون کو میں ہلاک کروں گا اور ایک خط بھی میرے نام ارسال کیا تھا جس میں دھمکی دی گئی تھی اور بیان کیا گیا تھا کہ خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ یہ شخص کاذب ہے اور اس موسیٰ کے ہاتھ سے اس کا استیصال ہوگا۔ ایسی بہت سی زبانی پیشگوئیاں ان کی ہیں جو صرف اپنے دوستوں یا ملاقاتیوں پر اُس نے ظاہر کی تھیں اور سب کا خلاصہ یہی ہے کہ گویا میں اُس کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا اور وہ مجھ پر غالب آجائے گا اور میں اُس کے سامنے ذلیل ہوں گا اور وہ دُنیا میں بڑا عروج پائے گا* ۔اورموسیٰ نبی کی طرح لاکھوں انسانوں کا سردار بن جائے گا اور افسوس کہ میں نے بہت سی کوشش کی کہ تا اُس کے پوشیدہ الہاموں کا مجھے پتہ لگ جاوے مگر وہ صرف اُس کے دوستوں کے حلقہ تک ہی محدود رہے اور کوئی تحریر جو بطور دستاویز ہو مجھ کو نہ ملی مگر جس قدر کتاب میں اُس نے * مجھے اپنے دوست فاضل مکرم مولوی نور الدین صاحب کی تحریر سے جماعت غزنوی ثم امرتسری کے ایک بزرگ مولوی عبد الواحد کی ایک خواب بابو الٰہی بخش کی نسبت معلوم ہوئی ہے جس کو میں اپنے الفاظ میں نہیں لکھتا بلکہ مولوی صاحب موصوف کا اصل رقعہ ذیل میں لکھ دیتا ہوں اور وہ یہ ہے۔ حضرت مولاناالامام علیکم الصلوٰۃ والبرکات والسلام۔ مجھے عزیز عبد الواحد الغزنوی نے خط لکھا تھا۔ ہماری جماعت کے لوگوں نے دیکھا ہے الٰہی بخش ایک بلند مینار پر کھڑا ہے اور لوگ اُس کے نیچے ہیں اس لئے اب اُس کی ترقی ہوگی اور بہت الفاظ تھے جومجھے یاد نہیں رہے کیونکہ میں خطوط کو معمولی طور پر پڑھتا ہوں اورپھر محفوظ نہیں رکھتا۔ میں نے الٰہی بخش کے مرنے پر عبدالواحد کو اس مضمون کا خط لکھ دیا ہے تو جواب اب تک نہیں آیا جس قدر مضمون یقینی طور پر یاد ہے یہ ہے شہادۃ باللہ العظیم۔ عرض خدمت ہے۔ نور الدّ ین۔