الہاؔ موں کے ذریعہ سے ہر ایک مقدمہ میں جو میرے پر دائر ہوتا تھا یہی خیال کرتا تھا کہ میں سزا پاکر عذاب الیم میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ اور ایسے ہی اُس کو الہام ہوتے تھے جن کو وہ اپنے دوستوں میں شائع کرتاتھامگر خدا تعالیٰ ہر ایک مقدمہ میں عزت کے ساتھ مجھے بری کرتا گیا۔ اور سخت نامُرادی کے ساتھ اُس کو موت آئی۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ جب اُس کو طاعون ہو گئی اور موت کو اُس نے اپنے سامنے دیکھ لیا۔ تب اُس نے اپنے تمام الہاموں کو شیطانی کلمات سمجھا ہوگا اور اُس وقت اُس کو اپنی نسبت یاد آیا ہوگا کہ میں غلطی پر تھا۔یہ بات بالکل غیر معقول اور خلاف قیاس ہے کہ وہ اس قدر ٹھوکریں کھاکر اور وہ طاعون جو میری طرف منسوب کرتا تھا اس میں اپنے تئیں مبتلا دیکھ کر اور میری کامیابیوں کو اپنے آخری دم میں تصور میں لاکر پھر بھی وہ اپنی پہلی حالت پر قائم رہا ہو جب اُس کو یاد آتا ہوگا کہ میں نے موسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اپنی کتاب کانام عصائے موسیٰ رکھا تھا اور یہ تمنا کی تھی کہ یہ عصا اُس شخص کو ہلاک کر دے گا جو مسیح موعود کا دعویٰ کرتا ہے اور جب اُس کو یاد آتا ہوگا کہ مَیں نے اس شخص کی نسبت جو مسیح موعود کا دعویٰ کرتا ہے اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں پیشگوئی کی تھی کہ وہ میری زندگی میں طاعون سے مرے گا اور جب اُس کو یاد آتا ہوگا کہ میں نے اسی کتاب میں پیشگوئی کی تھی کہ میں نہیں مروں گا جب تک اپنے اس دشمن کو نابود نہ کر لوں۔ تو ہر ایک انسان سوچ سکتا ہے کہ اس حالت میں جبکہ طاعون نے اُس کو پکڑا کس قدر درد و حسرت اُس کے دامنگیر ہوتی ہوگی۔ کون یقین کر سکتا ہے کہ باوجود اس قدر نامرادی کے اور کھل جانے اس بات کے کہ اُس کے سب الہام جھوٹے نکلے پھر بھی طاعون کے وقت اُس کو اپنے موسیٰ ہونے پر یقین تھا؟ نہیں نہیں ہر گز نہیں بلکہ طاعون نے تمام خیالات اُس کے پاش پاش کر دیئے ہوں گے اور متنبہ کر دیا ہوگا کہ وہ غلطی پر تھا۔ چنانچہ اس واقعہ سے بہت پہلے میرے پر خدا نے ظاہر کیا تھا کہ وہ ان خیالات فاسدہ پر قائم نہیں رہے گا اور آخران خیالات سے رجوع کرے گا۔ سو اس میں شک نہیں کہ جب اُس کو ناگہانی طاعون اور بے وقت موت کا نظارہ پیش آیا جس کو وہ خوب جانتا تھا کہ یہ بے وقت اورمیرے دعویٰ کے مخالف ہے تو بلا شبہ اس نظارہ نے