شائع ؔ کئے ہیں ایک منصف مزاج کے لئے کافی ہیں اور اگرچہ بعض بیہودہ اور نہایت لغو الہام اس کے جو ایک چھوٹی سی بیاض میں لکھتا جاتا تھا مجھ کو نہیں ملے مگر جس قدر مل گئے ہیں وہ اُس کا جھوٹ کھولنے کے لئے کافی ذخیرہ ہے اور جو پوشیدہ کئے گئے ہیں اُن کے دستیاب ہونے کی اُمید نہیں بلکہ یقین ہے کہ وہ تمام بیہودہ الہام جو جوش نفس سے میری نسبت کئے گئے تھے اُس کے ساتھ ہی دفن کئے گئے ہوں گے۔ وہ الہام جو میری نسبت الٰہی بخش نے عصائے موسیٰ میں لکھے ہیں جن کی نسبت وہ اپنی کتاب مذکور میں دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں منجملہ اُن کے اُس کا وہ فرضی الہام ہے جو اُس کی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۷۹ میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ سلام لک تغلبون۔ یحل علیہ غضب فقد ھویٰ۔ فتدبّر۔ (ترجمہ) تیرے لئے سلام ہے تم غالب ہو جاؤگے اور اُس پر یعنی اِس عاجز پر غضب نازل ہوگا اور وہ ضرور ہلاک ہو جاوے گا یعنی تم زندہ رہ کر اُس کی موت اور تباہی کو دیکھو گے پس سوچ لو۔ اِس الہام کے معنی جیساکہ خود الٰہی بخش نے جا بجا اپنی کتاب میں دوسرے الہاموں کے ذریعہ سے اس کی تشریح کی ہے یہ ہیں کہ گویا اُس کی زندگی میں ہی مجھ پر غضب نازل ہوگا اور میں ہلاک ہو جاؤں گا لیکن بر خلاف اس کے وہ خود میری زندگی میں ہلاک ہو گیا۔ اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں طاعون کو غضب اللہ کی موت ٹھہرایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت طاعون بنی اسرائیل پر پڑی جو مورد غضب الٰہی تھے اس طاعون کا مفصّل حال توریت میں موجود ہے اور پھر طاعون حضرت عیسیٰ کے بعد یہودیوں پر پڑی تھی جن پر انجیل میں غضب نازل ہونے کا وعدہ دیا گیا تھااوراسی طاعون کا نام قرآن شریف میں رجزمن السّماء رکھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔3 3 ۱؂ یعنی ہم نے ظالموں پر طاعون کا عذاب بھیجا کیونکہ وہ فاسق تھے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُوْا یُؤْمِنُونَ یعنی اس لئے ہم نے ان پرطاعون نازل کی کہ وہ مومن تھے