نیک بھی ہوتے ہیں۔ اورکئی لوگ ایسے ہیں کہ بد ذات لوگ اُن کی عورتوں سے زنا بالجبر کرتے ہیں۔ اور کئی ایسے لوگ ہیں جن کی اولاد کسی جنگل میں پانی سے ترستی ترستی مر جاتی ہے اور اُن کے لئے غیب سے کوئی آبِ زمزم پیدا نہیں ہوتا۔ پس اِس سے سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا معاملہ ہر ایک شخص سے بقدر تعلق ہوتا ہے۔ اور گو محبوبین الٰہی پر مصائب بھی پڑتی ہیں مگر نُصرتِ الٰہی نمایاں طور پر اُن کے شاملِ حال ہوتی ہے اور غیرتِ الٰہی ہر گز ہر گز گوارا نہیں کرتی کہ اُن کو ذلیل اور رسوا کرے اور اُس کی محبت گوارا نہیں کرتی کہ اُن کا نام دنیا سے مٹا دے۔ اور کرامات کی اصل بھی یہی ہے کہ جب انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا کا ہو جاتا ہے اور اُس میں اور اُس کے ربّ میں کوئی حجاب باقی نہیں رہتا اور وہ وفا اور صدق کے تمام اُن مراتب کو پورے کرکے دکھلاتا ہے جو حجاب سوز ہیں تب وہ خدا کا اور اُس کی قدرتوں کا وارث ٹھہرایا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ طرح طرح کے نشان اس کے لئے ظاہر کرتا ہے جو بعض بطور دفع شر ہوتےؔ ہیں اور بعض بطور افاضۂ خیر اور بعض اُس کی ذات کے متعلق ہوتے ہیں اور بعض اُس کے اہل وعیال کے متعلق اور بعض اُس کے دشمنوں کے متعلق اور بعض اُس کے دوستوں کے متعلق اور بعض اُس کے اہل وطن کے متعلق اور بعض عالمگیر اور بعض زمین سے اور بعض آسمان سے۔ غرض کوئی نشان ایسا نہیں ہوتا جو اُس کے لئے دِکھلایا نہیں جاتا اور یہ مرحلہ دقّت طلب نہیں اور کسی بحث کی اِس جگہ ضرورت نہیں کیونکہ اگر درحقیقت کسی شخص کو یہ تیسرا درجہ نصیب ہو گیا ہے جو بیان ہو چکا ہے تو دنیا ہر گز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ہر ایک جو اُس پر گرے گا وہ پاش پاش ہو جائے گا اور جس پر وہ گرے گا اُس کو ریزہ ریزہ کر دے گا کیونکہ اُس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ اور اُس کا مُنہ خدا کا مُنہ ہے اور اُس کا وہ مقام ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ یہ ظاہر ہے کہ اگرچہ درہم و دینار اکثر لوگوں کے پاس (جو مالدار ہیں) ہوتے ہیں لیکن اگر وہ گُستاخی کرکے بادشاہ کا مقابلہ کریں جس کے خزائن مشرق و مغرب میں پڑے ہوئے ہیں تو ایسے مقابلہ کا انجام بجز ذلّت کے کیا ہوگا؟ ایسے لوگ ہلاک ہوں گے اور وہ تھوڑے سے درہم و دینار اُن کے بھی ضبط کئے جائیں گے۔