پسؔ یہ نئی حیات کامل معرفت اور کامل محبت سے ملتی ہے اور کامل معرفت خدا کے فوق العادت نشانوں سے حاصل ہوتی ہے اور جب انسان اس حد تک پہنچ جاتا ہے تب اُس کو خدا کا سچا مکالمہ مخاطبہ نصیب ہوتا ہے۔ مگر یہ علامت بھی بغیر تیسرے درجہ کی علامت کے قابل اطمینان نہیں کیونکہ کامل تزکیہ ایک امر پوشیدہ ہے اس لئے ہر ایک فضول گو ایسا دعویٰ کر سکتا ہے۔
تیسر۳ی علامت مُلہم صادق کی یہ ہے کہ جس کلام کو وہ خدا کی طرف منسوب کرتا ہے خدا کے متواتر افعال اُس پر گواہی دیں یعنی اس قدر اس کی تائید میں نشانات ظاہر ہوں کہ عقلِ سلیم اس بات کو ممتنع سمجھے کہ باوجود اس قدر نشانوں کے پھر بھی وہ خدا کا کلام نہیں اور یہ علامت درحقیقت تمام علامتوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایک کلام جو کسی کی زبان پر جاری ہو یا کسی نے بادّعائے الہام پیش کیا ہو وہ اپنے معنوں کی رو سے قرآن شریف کے بیان سے مخالف نہ ہو بلکہ مطابق ہو مگر پھر بھی وہ کسی مفتری کا افتراہو کیونکہ ایک عقلمند جو مسلمان ہے مگر مفتری ہے ضرور اس بات کا لحاظ رکھ لے گا کہ قرآن شریف کے مخالف کوئی کلام بدعوئ الہام پیش نہ کرے ورنہ خواہ نخواہ لوگوں کے اعتراضات کا نشانہ ہو جائے گا۔ اور نیز یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کلام حدیث النفس ہو یعنی نفس کی طرف سے ایک کلمہ زبان پر جاری ہو جیسے اکثر بچے جو دن کو کتابیں پڑھتے ہیں رات کو بعض اوقات وہی کلمات ان کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں۔ غرض کسی کلمہ کا جو بدعوئ الہام پیش کیا گیا ہے قرآن شریف سے مطابق ہونا اس بات پر قطعی دلیل نہیں ہے کہ وہ ضرور خدا کا کلام ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ ایک کلام اپنے معنوں کی رو سے خدا کے کلام کے مخالف بھی نہ ہو اور پھر وہ کسی مفتری کا افترابھی ہو کیونکہ ایک مفتری بڑی آسانی سے یہ کارروائی کر سکتا ہے کہ وہ قرآن شریف کی تعلیم کے موافق ایک کلام پیش کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے اور یا ایسا کلام حدیث النفس ٹھہر سکتا ہے یا شیطانی کلام ہو سکتا ہے۔
ایسا ہی یہ دوسری شرط بھی یعنی یہ کہ جو الہام کا دعویٰ کرے وہ صاحب تزکیۂ نفس ہو