مخالفؔ بھی نہ ہو تب بھی وہ خدا کا کلام نہیں کہلا سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فعل اُس پر گواہی نہ دے کیونکہ شیطان لعین جو انسان کا دشمن ہے جس طرح اور طریقوں سے انسان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اسی طرح اُس مُضلّ کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ اپنے کلمات انسان کے دل میں ڈال کر اس کو یہ یقین دلاتا ہے کہ گویا وہ خدا کا کلام ہے اور آخر انجام ایسے شخص کا ہلاکت ہوتی ہے۔ پس جس پر کوئی کلام نازل ہو جب تک تین۳ علامتیں اس میں نہ پائی جائیں اُس کو خدا کا کلام کہنا اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اوّ۱ل۔ وہ کلام قرآن شریف سے مخالف اور معارض نہ ہو مگر یہ علامت بغیر تیسری علامت کے جو ذیل میں لکھی جائے گی ناقص ہے بلکہ اگر تیسری علامت نہ ہو تو محض اس علامت سے کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ دو۲م۔ وہ کلام ایسے شخص پر نازل ہو جس کا تزکیہ نفس بخوبی ہو چکا ہو اور وہ اُن فانیوں کی جماعت میں داخل ہو جو بکلّی جذبات نفسانیہ سے الگ ہو گئے ہیں اور اُن کے نفس پر ایک ایسی موت وارد ہو گئی ہے جس کے ذریعہ سے وہ خدا سے قریب اور شیطان سے دور جا پڑے ہیں کیونکہ جو شخص جس کے قریب ہے اُسی کی آواز سنتا ہے پس جو شیطان کے قریب ہے وہ شیطان کی آواز سنتا ہے اور جو خدا سے قریب ہے وہ خدا کی آواز سنتا ہے اور انتہائی کوشش انسان کی تزکیۂ نفس ہے اور اُس پر تمام سلوک ختم ہو جاتا ہے اور دوسرے لفظوں میں یہ ایک موت ہے جو تمام اندرونی آلائشوں کو جلا دیتی ہے۔ پھر جب انسان اپنا سلوک ختم کر چکتا ہے تو تصرفات الٰہیہ کی نوبت آتی ہے تب خدا اپنے اس بندہ کو جو سلب جذبات نفسانیہ سے فنا کے درجہ تک پہنچ چکا ہے۔ معرفت اور محبت کی زندگی سے دوبارہ زندہ کرتا ہے اور اپنے فوق العادت نشانوں سے عجائبات روحانیہ کی اُس کو سیر کراتا ہے اور محبت ذاتیہ کی وراء الوراء کشش اُس کے دل میں بھر دیتا ہے جس کو دنیا سمجھ نہیں سکتی اِس حالت میں کہا جاتا ہے کہ اُس کو نئی حیات مل گئی جس کے بعد موت نہیں۔