قابلؔ اطمینان نہیں بلکہ ایک پوشیدہ امر ہے اور بہتیرے ناپاک طبع لوگ اس بات کا دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہمارا نفس تزکیہ یافتہ ہے اور ہم خدا سے سچی محبت رکھتے ہیں۔ پس یہ امر بھی کوئی سہل امر نہیں کہ اس میں جلد تر صادق اور کاذب میں فیصلہ کیا جاوے یہی وجہ ہے کہ کئی خبیث النفس لوگوں نے اُن برگزیدوں پر جو صاحب تزکیہ نفس تھے ناپاک تہمتیں لگائی ہیں جیسا کہ آج کل کے پادری ہمارے سیّدو مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمتیں لگاتے ہیں اور نعوذباللہ کہتے ہیں کہ آپ نفسانی شہوات کا اتباع کرتے تھے جیسا کہ اُن کے ہزاروں رسالوں اور اخباروں اور کتابوں میں ایسی تہمتیں پاؤگے۔ ایسا ہی یہودی لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے ہیں۔ چنانچہ تھوڑی مدت ہوئی ہے کہ میں نے ایک یہودی کی کتاب دیکھی جس میں نہ صرف یہ ناپاک اعتراض تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ کی ولادت ناجائز طور پر ہے بلکہ آپ کے چال و چلن پر بھی نہایت گندے اعتراض کئے تھے اور جو آپ کی خدمت میں بعض عورتیں رہتی تھیں بہت بُرے پیرایہ میں اُن کا ذکر کیا تھا۔ پس جبکہ پلید طبع دشمنوں نے ایسے پاک فطرت اورمقدس لوگوں کو شہوت پرست لوگ قرار دیا اورتزکیہ نفس سے محض خالی سمجھا تو اس سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ تزکیہ نفس کا مرتبہ دشمنوں پر ظاہر ہو جانا کس قدر مشکل ہے چنانچہ آریہ لوگ خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں کو محض مکّا ر اور شہوت پرست قرار دیتے ہیں اور اُن کا دَور مکر و فریب کا دَور ٹھہراتے ہیں۔
لیکن یہ تیسری علامت کہ الہام اور وحی کے ساتھ جو ایک قول ہے اس کے ساتھ خدا کا ایک فعل بھی ہو۔ یہ ایسی کامل علامت ہے جو کوئی اس کو توڑ نہیں سکتا۔ یہی علامت ہے جس سے خدا کے سچے نبی جھوٹوں پر غالب آتے رہے ہیں کیونکہ جو شخص دعویٰ کرے کہ میرے پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے پھر اس کے ساتھ صدہا نشان ظاہر ہوں اور ہزاروں قسم کی تائید اور نصرت الٰہی شامل حال ہو اور اُس کے دشمنوں پر خدا کے کھلے کھلے حملے ہوں پھر کس کی مجال ہے کہ ایسے شخص کو جھوٹا کہہ سکے۔ مگر افسوس کہ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ اس بلا میں پھنس جاتے ہیں کہ کوئی حدیث النفس یا شیطانی وسوسہ اُن کو پیش آجاتا ہے تو اُس کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھ لیتے ہیں اور فعلی شہادت کی