ہوتاہے اور یہی ایک زہریلہ بیج تھا کہ قضا و قدر نے اس میں بودیا۔ پھر اس کے بعد
اندرؔ ہی اندر اُس کی مخلصانہ حالت میں کچھ تغیر ہوتا گیا اور پھر جس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے مجھے لوگوں سے بیعت لینے کے لئے مامور فرمایا اور قریباً چالیس۴۰ آدمی یاکچھ زیادہ بیعت میں داخل ہوئے اور عام طور پر خدا تعالیٰ کے حکم کے موافق ہر ایک کو سنایا کہ جو شخص ارادت رکھتا ہے وہ بیعت میں داخل ہو تب اس بات کو سنتے ہی الٰہی بخش کا دل بگڑ گیا اور وہ کچھ مدت کے بعد مع اپنے دوست منشی عبد الحق کے قادیان میں میرے پاس آیا اس غرض سے کہ تا اپنے الہام سناوے اور اب کی دفعہ اُس کی مزاج میں اس قدر سختی ہو گئی تھی کہ گویا وہ اور ہی تھا الٰہی بخش نہیں تھا۔ اُس نے بے باکی سے اپنے الہام سنانے شروع کئے اور وہ ایک چھوٹی سی بیاض میں لکھے ہوئے تھے جو اُس کی جیب میں تھی۔ منجملہ اُن کے اُس نے یہ سُنایا کہ خواب میں میں نے دیکھا ہے کہ آپ مجھے کہتے ہیں کہ میری بیعت کرو اور میں نے جواب دیا کہ میں نہیں کرتا بلکہ تم میری بیعت کرو۔ اس خواب کی وجہ سے وہ سر سے پیر تک تکبر اور غرور سے بھر گیا اور یہ سمجھا کہ میں ایسا بزرگ ہوں کہ مجھے بیعت کی حاجت نہیں بلکہ اُن کو میری بیعت کرنی چاہئے مگر دراصل یہ شیطانی وسوسہ تھا کہ اُس کی ٹھوکر کا باعث ہوا۔ بات یہ ہے کہ جب انسان کے دل میں تکبر اور انکار مخفی ہوتا ہے تو وہی انکار حدیث النفس کی طرح خواب میںآجاتا ہے اور ایک نادان سمجھتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے حالانکہ وہ انکار محض اپنے مخفی خیالات سے پیدا ہوتا ہے خدا سے اُس کو کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ پس صدہا جاہل محض اس حدیث النفس سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ غرض الٰہی بخش نے نہایت شوخی اور بے باکی سے وہ خواب مجھ کو سنائی اور مجھ کو اُس کی نادانی پر افسوس آتا تھا کیونکہ میں یقیناًجانتا تھا کہ جو کچھ وہ سُنارہا ہے وہ صرف حدیث النفس ہے۔ مگر چونکہ میں نے اُس کے دل میں تکبرمحسوس کیا اور نخوت اور خود بینی کے علامات دیکھے اور اُس کے کلمات میں تیزی پائی گئی اس لئے میں نے اُس کو نصیحت کے طور پر کچھ کہنا بے سود سمجھا۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ اکثر لوگ ہر ایک بات کو جو غنودگی کی حالت میں اُن کی زبان پر جاری ہوتی ہے خدا کا کلام قرار دیتے ہیں اور اس طرح پر آیت کریمہ3 ۱ کے نیچے اپنے تئیں داخل کر دیتے ہیں اور یاد رکھنا چاہئیے کہ اگر کوئی کلام زبان پر جاری ہو اور قال اللہ وقال الرسول سے