چمکتاؔ ہوا نشان نمبر ۱۹۸ بابو الٰہی بخش اکونٹنٹ پنشنر لاہور جھوٹا موسیٰ مر گیا۔ ناظرین آپ لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ایک شخص الٰہی بخش نام جو لاہور میں اکونٹنٹ تھا وہ اس زمانہ میں جب کہ میں نے خدا تعالیٰ سے وحی پاکر اس بات کو ظاہر کیا کہ میں مسیح موعود ہوں مجھ سے برگشتہ ہو کر اس بات کا مدعی ہوا کہ میں موسیٰ ہوں۔ اس بات کی تفصیل یہ ہے کہ مدت دراز سے الٰہی بخش مذکور میرے ساتھ تعلق ارادت رکھتا تھا اور بارہا قادیان میں آیا کرتا تھا اور مجھ کو ایک سچا ملہم خدا تعالیٰ کی طرف سے جانتا تھا اور خدمت کرتا تھا۔ بعض دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ صبح کے وقت نماز کے بعد بمقام امرت سر میں سوتا تھا اور میرے منہ پر چادر تھی۔ تب ایک شخص آیا اور اُس نے میرے پاؤں دبانے شروع کر دئے۔ جب میں نے چادر اُٹھاکر دیکھا تو وہی الٰہی بخش تھا۔ اس تحریر سے غرض یہ ہے کہ اس حد تک اُس کا اخلاص پہنچ گیا تھا کہ کسی نوع کی خدمت سے وہ ننگ اور عار نہیں رکھتا تھا اور نہایت انکسار سے معمولی خدمت گا روں کی طرح اپنے تئیں تصور کرتا تھا اور مالی خدمت میں بھی حتی المقدور اپنے دریغ نہیں کرتا تھا۔ جب تک خدا نے چاہا وہ اسی مخلصانہ حالت میں رہا اور مجھ کو بڑی امید تھی کہ وہ اپنے اخلاص میں بہت ترقی کرے گا۔ اور جب میں قادیان سے کسی تقریب سے لدھیانہ یا انبالہ یا کسی اور جگہ جاتا تھا تو بشرط گنجائش اور فرصت نکلنے کے اُسی جگہ پہنچتا تھا اور اکثر اوقات اُس کا رفیق منشی عبد الحق اکونٹنٹ بھی اُس کے ساتھ ہوتا تھا۔ پھر اُس کو کچھ مدت کے بعد یہ خیال پیدا ہوا کہ مجھ کو الہام