نمبر شمار تاریخ خط نام فریسندہ خط مقام ضلع خلاصہ مضمون خط (۴۵) یکم اپریل ۱۹۰۷ء محمد علی مدرس تلونڈی موسیٰ خان سیالکوٹ ۳۱؍ مارچ کی نسبت جو پیشگوئی تھی صفائی سے پوری ہو گئی ہر ایک زبان اقرار کرتی ہے کہ آسمانی انگارجو۳۱؍ مارچ کو ظہور میں آیا اس سے پیشگوئی کی سچائی ثابت ہو گئی۔ (۴۶) ۵؍صدر سید قاسم شاہ معین الدین پور گجرات تصدیق بشرح صدر (۴۷) ۳؍ ؍؍ عبد اللہ حکیم راہوں جالندھر ؍؍ آسمان اے غافلو اب آگ برسانے کو ہے )۴۸) ؍؍ ؍؍ عبد العزیز احمدی درگاہی والہ گوجرانواالہ ؍؍ )۴۹) میاں محمد دین سیالکوٹ ؍؍ ؍؍ (۵۰) ۳؍ ؍؍ غلام احمد کریام ؍؍ ؍؍ (۵۱) ؍؍ محمد حسین کلارک آدوارے گوجرانوالہ ؍؍ (۵۲) عنایت اللہ کنجاہ گجرات ؍؍ ترجمہ از اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور مورخہ ۶؍اپرپل ۱۹۰۷ء ایک نامہ نگار انگریز سول اینڈ ملٹری گزٹ کی طرف لکھتا ہے کہ جناب آیتوار کی شام کوچار اور پانچ بجے کے درمیان میں نے ڈلہوزی سے شمالی جانب ایک ایسا ہی شہاب دیکھا جیسا آپ کے اخبار مورخہ ۳؍اپریل سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی دن اور اسی وقت لاہور میں دیکھا گیا تھا ایک خرطومی شکل کا دُخانی ستون جس کا باریک حصہ نیچے کی طرف تھا۔ ڈلہوزی سے کوئی بیس میل کے فاصلہ پر اُٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کی اونچائی سطح ڈلہوزی سے بلند تھی۔ اور اسکی چمک سے پہاڑ کی برف زرد رنگ ہو گئی تھی۔ یہ واقعہ ایسا تعجب انگیز تھاکہ میں دور بین لے کر اُسے زیادہ زور سے دیکھنے لگا۔ پہلے میں نے یہ خیال کیا کہ جنگل میں کہیں آگ لگ گئی ہے اور یہ اُس کا دھواں ہے مگر فوراًمجھے یہ خیال آگیا کہ اس موسم میں جنگل میں آگ نہیں لگ سکتی اور علاوہ اس کے جنگل کی آگ کا دھواں صرف ایک جگہ سے نہیں اُٹھا کرتا بلکہ بہت جگہوں سے اُٹھتا ہے یہ قدرت نمائی پنجاب میں تین جگہ ہوئی جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ شعلہ ایک نہ تھا بلکہ بہت سے شعلوں کی ایک بوچھاڑ تھی اور ہر ایک شہاب کے ساتھ بہت سے چھوٹے ٹکڑے تھے جو کہ کسی نے نہیں دیکھے (۲) بہت سے خطوط سے جو ہمارے پاس آئے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ آیتوار کا شعلۂ آتش پٹیالہ سے جہلم تک دیکھا گیا تھا۔ ایک نامہ نگار لکھتا ہے کہ جموں میں اُس کے ساتھ ایک توپ کی آواز تھی کپورتھلہ سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ زمین سے آسمان تک آگ کا ایک ستون نظر آتا تھا جس سے اُس قصہ پر روشنی پڑتی ہے جو یعقوب کی سیڑھی کے متعلق مروی ہے۔ رعیہ میں ۴ آدمی دہشت سے بیہوش ہو گئے۔