نمبر شمار (۱۲) تاریخ روانگی خط ۳۱مارچ ۱۹۰۷ء نام فریسندہ میاں صاحب دین امام مسجد نام مقام تہال ضلع گجرات خلاصہ مضمون خط ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء کو بوقت تخمیناً چار بجے دن کے آپ کے الہام کے مطابق ایک تعجب انگیز واقعہ ظہور میں آیا یعنی آسمان پر ایک انگار نمودار ہوا جس کے دیکھتے ہی ہزاروں آدمی تعجب میں رہ گئے۔ نمبر شمار (۱۳) تاریخ روانگی خط یکم اپریل ۱۹۰۷ء نام فریسندہ کرم دین مدرس نام مقام ڈنگہ ضلع ؍؍ خلاصہ مضمون خط خاص ڈنگہ اور نواح ڈنگہ میں ایک شعلہ ناری زمین پر گرا۔ رفتار شعلہ آسمان پر جنوب مغرب سے شمال مشرق کو تھی یہ واقعہ ۳۱؍ مارچ کا ہے اس سے حضور کی پیشگوئی بہت صفائی سے پوری ہو گئی کیونکہ ۳۱ ؍مارچ تک پیشگوئی کی میعاد تھی۔ نمبر شمار (۱۴) تاریخ روانگی خط ؍؍ نام فریسندہ محمد فضل الرحمان نام مقام ہیلان ضلع ؍؍ خلاصہ مضمون خط ۳۱؍ مارچ چار بجے شام چند گولے آگ کے جو آدمی کے سر کے برابر تھے اور دو یا اڑہائی گز اُن کی دُمیں تھیں نہایت ہی مشتعل آسمان سے زمین کی طرف اُترتے ہوئے دکھائی دیئے۔ نہایت ہولناک تعجب انگیز نظارہ تھا بہت سے لوگ خوف کے مارے سہم گئے اور بہت بیہوشی کی حالت میں ہو گئے جو دیر کے بعد ہوش میں آئے۔ اور اس سے حضور کی پیشگوئی واضح طور پر پوری ہو گئی۔ (۱۵) ؍؍ نظام الدین ادرحمہ شاہپور ۳۱؍مارچ بوقت عصر مطلع بالکل صاف تھا ناگہاں شعلۂ آتش آسمان پر نمودار ہوا اور آگ کے چنگارے گرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ چونکہ پہلے سے حضور شائع کر چکے تھے کہ ۳۱؍ مارچ کو یا ۳۱؍ مارچ تک کوئی تعجب انگیز واقعہ ظہور میں آئے گا اس لئے یہ پیشگوئی ایسی صاف ہے کہ کوئی اس کو رد نہیں کر سکتا۔ (۱۶) ؍؍ غلام محمد جٹ گولیکے گجرات ۳۱؍ مارچ کو آسمان پر ایک ہولناک شعلہ دیکھا گیا پیشگوئی صفائی سے پوری ہوئی۔ (۱۷) ؍؍ نور الدین کھاریاں ؍؍ مبارک ہو ۳۱؍ مارچ والی پیشگوئی ہولناک شعلۂ آگ سے کھلے طور پر ظہور میں آگئی۔ (۱۸) ؍؍ میراں بخش مدرس شیخ پورہ ؍؍ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء کو بوقت عصر ایک گولہ آتشیں آسمان سے گرا۔ سب کو شمال مشرق کی طرف سے دکھائی دیا۔ ۳۱؍ مارچ والی پیشگوئی صفائی سے پوری ہو گئی۔ (۱۹) ؍؍ غلام قادر حبونجل ؍؍ بشرح صدر (۲۰) ؍؍ محمد الدین مدرس ککرالی ؍؍ ۳۱؍ مارچ کو بوقت بعد نماز ظہر ہولناک و تعجب انگیز شعلۂ آتش ہزار ہا لوگوں نے دیکھا۔ اس سے پچیس دن والی پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہو گئی۔ (۲۱) ؍؍ غلام رسول لنگہ ؍؍ صدر (۲۲) ؍؍ احمد دین مور شادیوال ؍؍ ۳۱ ؍مارچ کو ایک ہولناک نظارہ آگ آسمانی کا نظر آیا اور اس گاؤں کے لوگوں نے اس کیفیت کو دیکھ کر رات کوتمام گاؤں میں ڈھنڈھورا پٹوایا کہ دن کو سب لوگ ایک کھلے میدان میں جمع ہو کر نفل پڑھیں اور اس طرح پر ۳۱؍ مارچ کی پیشگوئی کے سب لوگ گواہ ہوئے ہیں۔