آواز کے برابر تھی جس سے تمام جنگل اور گاؤں گونج اُٹھا۔ اور وہ آگ اسی مرگھٹ میں اُس درخت پر غائب ہو گئی۔ بعد ازاں کوئی ۲۱ ۴ بجے شام کا وقت تھا۔ پھر ایک ستارہ اُس گاؤں کے جانب شمال میں قریباً۳۴ میل پر جنگل میں ٹوٹا اِس کی شکل بھی پہلے کی سی تھی مگر اس کی آواز ٹوٹتے ہی اتنی ہوئی جیسے ایک توپ چلتی ہے۔ سب لوگوں کی نگاہیں اسی میں تھیں۔ میں خود اس وقت گاؤں سے باہر ۱۴ میل کے فاصلہ پر جانب شمال میں کھڑا تھا۔ آواز کے آتے ہی جو دیکھا کہ ایک آگ سی جیسی بجلی چمکتی ہے گاؤں کی طرف بڑھتی ہوئی دیکھی گئی۔ گاؤں کے پاس ایک جوہڑ ہے وہاں تک میں نے خود جاتی دیکھی مگر بعد ازاں لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ گاؤں میں آکر دھوئیں کی شکل میں بدل کر کچھ تو گاؤں میں غائب ہو گئی اور کچھ آگے کو چلی گئی۔ بعد ازاں شام کا وقت تھا۔سورج غروب ہونے کی تیاریاں کر رہا تھا پھر ایک گول شکل کی آگ موضع رندہاوہ (جو جانب شمال غرب پنوانہ کے واقعہ ہے) کی طرف سے آتاہوا دکھائی دیا اور گاؤں سے آگے نکل گیا اور سُنا گیا ہے کہ یہ گول آگ بھی ایک ستارہ تھا جس کی ۶ میل تک تو یہی خبر ہے کہ ہمارے بھی آگے سے آیا اور آگے معلوم نہیں کہاں تک گیا۔ سُنا گیا ہے کہ موضع جودہالہ تحصیل پسرور میں جو کہ پنوانہ سے چار میل پر ہے وہاں ایک چارہ کے کھیت میں اس کا کچھ حصہ گرا جس سے چارہ کھیت کا جل گیا مگر یہ خبر کچھ معتبر نہیں ہے معلوم نہیں کہ یہ کیا رنگ خدا کا ہے۔ پھر اسی اخبار آرمی نیوز میں اسی جگہ لکھا ہے کہ واقعہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء کو ضلع جہلم تحصیل پنڈداد نخاں موضع چک شادی میں قریب ۱۲ بجے دن کے آسمان پر قریب ۴ فیٹ لمبے اور ۲ فیٹ گول برنگ سُرخ فاصلہ ۱۲ میل پر دو آتشی گولے گِرے اور گرتے ہی غائب ہو گئے۔ نقشہ خطوط جو بطور شواہد متعلق پیشگوئی پچیس۲۵ یوم (جو ایک ہولناک تعجب انگیز گولہ آسمانی کا نشان ظاہر ہونے پر مشتمل تھی جو ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء کو بوقت عصر ظاہر ہوا) موصول ہوئے۔ نمبر شمار تاریخ روانگی خطوط نام فریسندہ نام موضع نام تحصیل ضلع خلاصہ مضمون خط (۱) ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء سید احمد علی شاہ سفید پوش مالو مہی پسرور سیالکوٹ آج بوقت ۴ بجے شام مورخہ ۳۱؍مارچ ۰۷ء نشان آسمانی دیکھا جو تمام عمر میں نہیں دیکھا تھا جنوب کی طرف سے شمال کی طرف کو چھوٹا سا ٹکڑا آگ کا معلوم ہوتا (تھا)۔