قدرت ظاہر ہو جائیں جب سے دنیا پیدا ہوئی یہ زمانہ کسی نے نہیں دیکھا یہ خدا کے فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور دراصل یہ آتشی گولہ بھی جو جا بجا نمودار ہوا ہے اسی جنگ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اگرچہ پہلے اِس سے معمولی طور پر شہاب ثاقب ٹوٹا کرتے تھے لیکن آج تک دنیا میں یہ خوفناک نظارہ نہیں دیکھا تھا۔ اس قدر خوفناک انگار جو برسائے گئے یہاں تک کہ بعض لوگ ان کے نظارہ سے بیہوش ہو گئے یہ امرصاف دلالت کرتا ہے کہ اب بڑے بڑے شیطانوں کی ہلاکت کا وقت آگیا ہے چنانچہ تھوڑے دنوں کے بعد دنیا خود دیکھ لے گی کہ ان آتشی انگاروں کے کیسے معنی ظاہر ہوتے ہیں۔
اب ؔ میں قبل اس کے کہ اس آتشی انگار کے بارہ میں دوسرے لوگوں کی شہادت پیش کروں وہ بیان لکھتا ہوں کہ جو اخبار انگریزی سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور نے پرچہ ۳؍اپریل ۱۹۰۷ء میں اِس گولہ کی نسبت لکھا ہے اور وہ یہ ہے ۔
کئی نامہ نگاروں نے ہمیں اِس شہاب کے متعلق خطوط لکھے ہیں جو اتوار کی شام کو پونے پانچ بجے کے قریب دیکھا گیا۔ یہ نہایت چمکدار تھا اور لاہور میں جب یہ گرتا دیکھا گیا تو اس کے پیچھے ایک بہت لمبی دوہری دھار ایسی تھی جیسے دُھواں ہوتا ہے۔ راولپنڈی میں یہ جنوب مشرق کی طرف نظر آیا۔ اس وقت دھوپ نہایت تیز تھی۔ ہمارے بعض نامہ نگار یہ دریافت کرتے ہیں کہ آیا اس سے پہلے بھی کبھی کوئی ایسا شہاب دیکھا گیا ہے جو اِن حالات کے ماتحت نظر آیا ہو۔ اوربعض یہ لکھتے ہیں کہ اگر غروب آفتاب کے بعد یہ واقعہ دیکھا جاتا تو اس کی چمک واقعی بے نظیر ہوتی۔ (سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور ۳؍اپریل ۱۹۰۷ء)
اِسی طرح اخبار آرمی نیوز لدھیانہ مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۰۷ء کے صفحہ ۱۱ کالم ۳ میں اسی شہاب کی نسبت لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ شہاب ثاقب ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء کو قریباً۳ بجے بعددوپہر آسمان سے نازل ہوا جو درج ذیل کرتا ہوں۔ موضع پنوانہ تحصیل پسرور میں گاؤں کے گوشہ جنوب و مغرب میں کوئی ۲/۱ میل کے فاصلہ پر ایک ستارہ ٹوٹا جو کہ آسمان سے ٹوٹتے ہی آگ کی شکل میں ہو کر قریباً ۲۵ گز لمبائی میں جنگل سے گاؤں کی طرف بڑھا۔ گاؤں سے ۱۴ میل کے فاصلہ پر ہندوؤں کا سمسان ہے اس میں ایک کیکر کا درخت ہے اس درخت پر کوئی دس گز اوپر وہ آگ ۵ منٹ تک لہراتی رہی بعد ازاں سفید رنگ میں بدل کر اتنی موٹی ہو گئی جیسے ایک موٹا بانس ہوتا ہے ۵ منٹ کے بعد وہ آگ تین ٹکڑوں میں منقسم ہو گئی جس کے ٹوٹنے کی آواز کئی توپوں کی