جیساؔ کہ تمام نبی لکھ چکے ہیں میرے وقت میں انواع اقسام کے عجائب نشان اور قہری تجلّیات کا ظہور ضروری تھا سو ضرور ہے کہ میں اُس وقت تک زندہ رہوں کہ جب تک قہری نشان اور عجائبات بقیہ حاشیہ پر خوب روشن ہے کہ جو طاقت آپ کے آباؤ اجداد میں تھی وہ اب آپ میں کہاں اور آپ میں جو حوصلہ طاقت اور عقل ہے وہ آپ کی اولاد میں ہے؟ یا کچھ آئندہ ہو جانے کی امید ہے! پس اے دوستو! اگر آپ لوگوں کو اس درد عظیم سے نجات پانے کی خواہش ہے تو بے عیب خلیفۃ اللہ مہاراج کا ضرور خیال اور دھیان کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے راستباز بندوں کے حامی ہوتے ہیں ان کو اپنے برگزیدہ بندوں کو ہمیشہ راحت پہنچانے ہی کی خواہش ہوتی ہے اور وہ اسی زمانہ میں ظاہر ہو کر تمام بدیوں اور بد کرداروں کو ہلاک کریں گے۔ اگر کسی دوست کو یہ خیال ہووے کہ ابھی کلجگ (زمانہ کذب و افترا) کا پہلا ہی دور ہے اور مہاراج کا جنم کلجگ کے آخرمیں لکھا ہے تو آپ غور کریں کہ اس سے زیادہ اور کیا کلجگ ظاہر ہوگا کہ عورتیں اپنے شوہروں کو چھوڑ کر دوسروں پر نظر رکھتی ہیں اور اولاد اپنے والدین کی فرمانبرداری اور وفاداری میں نہ رہیں اور والدین اپنی اولاد کو اولاد کی طرح نہ سمجھیں یہاں تک کہ سب ہی چیزیں اپنے اپنے مذہب سے پھری ہوئی ہیں۔ اب کوئی صاحب یہ فرماویں کہ ابھی شاستر کے موافق وقت نہیں معلوم ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بھائی پیارے دوستو! نرسی جی (ایک برگزیدہ بندۂ خدا) کا ؔ ظہور بھی پہلے کسی عالم کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ شری کرشن جی مہاراج ایسا ظہور کریں گے اور اسی طرح سینکڑوں برگزیدہ بندگانِ خدا کی حمایت اور نصرت کی گئی جیسے کہ پہلاد بھگت کی حمایت اور نصرت کا کوئی وقت اور تاریخ لکھی نہ گئی تھی مگر جب نرسنگھ جی ظاہر ہو چکے اور دیت راج کو مار چکے تب معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندہ کی حمایت کے واسطے ظہور فرمایا ہے اسی طرح پر کلگی بھوان مہاراج کا ظہور ہے اور وہ کل دنیا کے آرام کا باعث ہوا ہے اور اسی سے کام کاج چلتا ہے کیونکہ آنکھوں سے اسی وقت دکھائی دیتا ہے جب اندھیرا دور ہو جاوے۔ پیارے دوستو! سچی عبادت اور محبت الٰہی تب ہی ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کو انسان گویا دیکھ لے۔ جیسا کہ شیوجی مہاراج نے فرمایا ہے کہ ’’آگ کل دُنیا میں رہتی ہے اور جس طرح پر رگڑ سے وہ پیدا ہوتی ہے اسی طرح پرمیشر کا حال ہے۔ جب انسان اس سے محبت کرتا ہے تو اُس کا ظہور ہوتا ہے۔‘‘ اپنی کتابوں کے سچے تجربہ کو سچے یقین سے مان لو اور جوکوئی یہ سوال کرے کہ وہ کہاں پیدا ہوئے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے عقلمندو! غور کرو کہ اُس کے ظہور کا وہ محل ہے جہاں آفتاب کا ظہور ہوتا ہے (یعنی مشرق میں) سنبھل (وہ جگہ جہاں اس اوتار کا ظہور مانا گیا ہے) وہی ہے جہاں وہ خلیفۃ اللہ ظاہر ہوں۔ دوستو! بزرگو! پنڈتو! میرے اس تھوڑے لکھے کو بہت جانو کیونکہ عقلمندوں کو اشارہ ہی کافی ہے۔اب خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ جلد اپنا ظہور فرما کر اپنے دوستوں کو بچایئے اور اس دنیا کے جال سے نجات دیجئے ورنہ دنیا بگڑ چکی ہے۔ اگر اس میں کوئی امر غیر مناسب ہویا فروگذاشت ہوئی ہو تو آپ معاف کریں۔ المشتھر بالمکند جی کونچہ پاتی رام دہلی