مجھے ؔ شناخت کر لیں گے کیونکہ خدا کا ہاتھ اُنہیں دکھائے گا کہ آنے والا یہی ہے۔ پھر میں اپنے مقصد کی طرف رجوع کرکے لکھتا ہوں کہ چونکہ میں آخری خلیفہ ہوں اس لئے بقیہ حاشیہ وقت نہیں ودت ہوتاہے تو بھائی پیارے بھگتو! نرسی جی کا بہات بھرنا بھی پہلے کسی شاستری جی کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ شری کرشن چندر مہاراج ایسا بھات دیو یں گے اور اسی طرح سینکڑوں بھگتوں کے کارکاج سُدھ کر دیئے جیسا کہ پہلا و بھگت کے اُبھارنے کو کہیں ساعت اور تتھی نہیں لکھی تھی جب نرسنگھ جی پرگھٹ ہو چکے اور دیت راج کو مار چکے تب ہی تو معلوم ہوا کہ نارائین جی نے اپنے بھگت کے اُبھارنے کے واسطے اُتار لیا ہے۔ اس سبب سے ان کلگی بھگوان مہاراج کا پرگھٹ ہونا۔ مانو سنسار کے سُکھ کا مول ہوگا۔ جس طرح بھگوان سورج نارائن کا اودے ہونا سب دنیوی کاروبار و دیگر مخلوقات کے سکھ کا مول ہوتا ہے کیونکہ آنکھوں سے دکھلائی تب ہی دیتا ہے جبکہ اندھیرا دور ہوتا ہے۔ پیارے مترو سچی پرستی اور بھگتی کا تجربہ ایشور کے درشن ہی کرنے کا ہے جیسا کہ شری شوجی مہاراج نے کہا ہے اگ جگ میں سب رہت وراگی۔ پریم سے پربھو پر گھٹیں جمی آگی۔ اپنے شاستروں کے سچے تجربہ کو سچی پریت سے پرتیت کرو کہ کہاں پیدا ہوئے۔ ہے بدھی والو غور سے سوچو کہ(دوس تہان جہان بھانو پرکاشو) سنبھل وہی ہے جہاں نشکلنکؔ جی پرگھٹ ہوں۔ ہے سجنو! مہاتماؤ ! پنڈتو! میرے اس تھوڑے لکھے کو بہت جانو کیونکہ عقلمندوں کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اب ایشور مہاراج سے بھی پرارتھنا ہے کہ آپ جلدی پر گھٹ ہو کر اپنے بھگتوں کو بچاؤ اور اس مایا روپی جال سے نکالو۔ ورنہ سنسار سب کچھ گیا ہوا ہی ہے اگر میری اس میں کوئی غیر مناسب بات یا بھول ہووے اپنا بچہ سمجھ کر معاف فرما ویں۔ المشتہر بالمکندجی کونچہ پاتی رام دہلی ترجمہ اس اشتہار کایہ ہے بے عیب (معصوم) بھگوان کا اوتار یعنی مَعْصُوْم خَلِیْفَۃُ اللّٰہ اہل دنیا کو واضح ہو کہ آج کل جیسی جیسی بدیاں ہمارے ملک میں ہو رہی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں مثلاً عورتوں کا بیوہ ہونا اور ساتھ ہی ان بُری باتوں کا بھی ہونا جن کو بچہ بچہ بھی جانتا ہے اور غلّہ اور گھی وغیرہ کا اس قدر گراں ہونا اور علاوہ اس کے سینکڑوں قسم کی مصیبتیں ہمارے آریہ ورت (ہندوستان) پر آئی ہوئی ہیں کہ جس کا ذکر بیان سے باہر ہے۔ یہ آپ لوگوں