اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔ اور بادشاہت سے مراد صرف آسمانی بادشاہت ہے ایسے لفظ خدا کے کلام میں آجاتے ہیں مگر معنی رُوحانی ہوتے ہیں۔ سو میں اس تصدیق کے لئے کہ وہی کرشن آریوں کا بادشاہ میں ہوں دہلی کے ایک اشتہار کو جو بالم کند نام ایک پنڈت نے ان دنوں میں شائع کیا ہے مع ترجمہ حاشیہ میں لکھتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ ؔ آریہ ورت کے محقق پنڈت بھی کرشن اوتار کا زمانہ یہی قرار دیتے ہیں* ۔اور اس زمانہ میں اس کے آنے کے منتظر ہیں گو وہ لوگ ابھی مجھ کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ زمانہ آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ
شری نشکلنک بھگوان کا اوتار*
(شری ہنومان جی کی جے)
سنساری پُرشوں کو ودت ہو کہ آج کل جیسے جیسے اوپدرو ہمارے دیش میں ہو رہے ہیں وہ سب کو معلوم ہی ہیں مثلاً استریوں کا بیوہ ہونا اور ساتھ ہی اُن بُری باتوں کا بھی ہونا جن کو بچہ بچہ جانتا ہے اور گھی اور غلّہ وغیرہ کا اس قدر گراں ہونا اور علاوہ اس کے سینکڑوں قسم کی مصیبتیں ہمارے آریہ ورت پر آئی ہوئی ہیں کہ جن کا ذکر بیان سے باہر ہے یہ آپ لوگوں پر خوب روشن ہے کہ جو طاقت آپ کے پتا و دادا میں تھی وہ اب آپ میں کہاں۔ اور آپ میں جو حوصلہ طاقت و بدھی ہے وہ آپ کی اولاد میں ہے یا کچھ آئندہ ہو جانے کی امید ہے۔ بس اے سجنو! اگر آپ لوگوں کو اس مہاکشٹ سے چھٹنے کی خواہش ہے اور نراکار وسا کار کی ایکتا اور پرماتما میں پریم اور بھگتی بڑھانے کی خواہش ہے تو شری نشکلنک جی مہاراج کا ضرور سُمرن و دھیان کیجئے۔ کیونکہ ایشور پرماتما ہمیشہ بھگتوں کے بس میں ہوتے ہیں۔ اُن کو اپنے بھگتوں کو سُکھ دینے کی ہی اِچھا یعنی خواہش رہتی ہے وہ ضرور پرگھٹ ہو کر حال میں ہی ان سب اوپدروں اور دُشٹوں کو ناش کریں گے۔ اگر کسی سجن کو یہ خیال ہووے کہ ابھی کلجگ کا پرتھم چرن ہی ہے اور مہاراج جی کا جنم کلجگ کے انت میں لکھا ہے توآپ غور کیجئے کہ اس سے زیادہ اور کیا کلجگ پرتیت ہوگا کہ استریاں اپنے پتیوں کو چھوڑ کر دوسروں پر نگاہ رکھیں۔ اور اولاد اپنے والدین کی وفاداری میں نہ رہیں۔ اور والدین اپنی اولاد کو اولاد کی طرح نہ سمجھیں۔ یہاں تک کہ آج کل سب ہی چیزیں اپنے اپنے دھرموں سے پھری ہوئی ہیں۔ اب کوئی صاحب یہ فرماویں کہ ابھی شاستر دوارا